قبرستان کی وجہ سے برطانیہ کے معروف ادبی خاندان کا اچانک غائب ہونا سب کو حیران کر گیا
برونٹی خاندان کے افراد نے اہم ناول پیش کیے ،جو بے حد مقبول ہوئے اور آج تک فروخت ہوتے ہیں
وکٹورین دور کے دوران کئی مصنفین نے ادب کے میدان میں انقلاب برپا کیا، خاص طور پر ایسی لازوال کہانیوں کے ذریعے جو بنیادی طور پر اس وقت کے سماجی حالات اور لوگوں کی مشکلات پر تنقید کرتی تھیں۔
ان مصنفین میں تاریخ کچھ نمایاں ناموں کو یاد کرتی ہے، جیسے چارلس ڈکنز (Charles Dickens) جنہوں نے اپنی کہانیوں جیسے اولیور ٹوسٹ (Oliver Twist) کے ذریعے سماجی انصاف کی کمی اور غربت کے پھیلاؤ پر تنقید کی، آسکر وائلڈ (Oscar Wilde) جن کا مشہور ناول "تصویر ڈورین گرے" (The Picture of Dorian Gray) ہے اور آرتھر کونن ڈوئل (Arthur Conan Doyle) جنہوں نے مشہور جاسوسی ناول شارلاک ہولمز (Sherlock Holmes) لکھا۔
ان سب کے علاوہ برونٹی بہنیں (Brontë sisters) بھی سامنے آئیں، جنہوں نے ایسے ناول پیش کیے جو سب کو حیران کر دینے والے تھے ، جنہیں وسیع پذیرائی حاصل ہوئی۔ اسی دوران برونٹی بہنوں کا ادبی سفرایک عجیب طبی حالت جو سیوریج کے پانی اور قبرستان سے منسلک تھا،جلد ختم ہو گیا۔
برونٹی خاندان کی ادبی خدمات
برطانیہ میں وکٹورین دور کے دوران برونٹی خاندان ادب کے میدان میں فعال کردار ادا کرتا رہا۔ اس عرصے میں پیٹرک برونٹی (Patrick Brontë) ایک اینگلیکن راہب اور کامیاب مصنف کے طور پر موجود تھے۔ اپنی شادی ماریا بارنوِل (Maria Branwell) سے انہیں ایسے بچے ملے جو اپنے ادبی کاموں کی بدولت برطانیہ میں وسیع شہرت حاصل کرنے والے تھے۔
1847 میں ایمیلی برونٹی (Emily Brontë) کاناول "وذرنگ ہائٹس (Wuthering Heights)" پہلی بار شائع ہوا۔ اسی سال آن برونٹی (Anne Brontë) کا ناول "اگنس گرے (Agnes Grey)" بھی منظرِ عام پر آیا۔ اور اسی سال شارلٹ برونٹی (Charlotte Brontë) کی مشہور ناول "جین آئیر (Jane Eyre)" شائع ہوا، جس نے بڑی فروخت حاصل کی اور شارلٹ برونٹی کو اس وقت اپنی بہنوں سے بھی زیادہ مشہور مصنفہ بنا دیا۔
تاہم تینوں بہنوں کی ادبی زندگی زیادہ طویل نہ رہی۔ جسے کئی لوگوں نے برونٹی خاندان کی بد قسمتی قرار دیا ، تینوں بہنیں اپنے ادبی عروج کے دوران ٹی بی (سل) کی بیماری کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
خاندان کے افراد کی ابتدائی وفات
برونٹی خاندان کے افراد کی وفات کو اکثر لوگ برونٹی خاندان کی بدقسمتی کہتے ہیں ۔ کیونکہ تین بہنوں کی والدہ ماریا بارنوِل (Maria Branwell) 1821 میں 38 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں، جس کی وجہ اس دور کی رپورٹس کے مطابق کینسر تھی۔
1825 میں برونٹی خاندان نے ٹی بی (سل) کی وجہ سے دو افراد کھو دیے۔ ماہ مئی میں ماریا برونٹی اسی بیماری کے باعث اس دنیا سے رخصت ہو گئیں جب وہ صرف 11 سال کی تھیں۔ ایک ماہ بعد ان کی بہن ایلیزابت بھی وفات پا گئیں، جو اس وقت 10 سال کی تھیں۔
24 ستمبر 1848 کو خاندان کا اکیلا بیٹا بارنوِل برونٹی (Branwell Brontë)، جو مصور اور مصنف تھا، 31 سال کی عمر میں ٹی بی کے سبب انتقال کر گیا۔ تین ماہ بعد اس کی بہن ایمیلی برونٹی اسی بیماری کی وجہ سے 30 سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اگلے سال 17 جنوری 1849 کو آن برونٹی (Anne Brontë) 29 سال کی عمر میں ٹی بی کے سبب دنیا چھوڑ گئیں۔31 مارچ 1855 تک، شارلٹ برونٹی (Charlotte Brontë) بھی ٹی بی کی بیماری کے بعد 38 سال کی عمر میں وفات پا گئیں، یوں پیٹرک برونٹی (Patrick Brontë) نے اپنے تمام خاندان کے افراد کھو دیے۔
ہاؤورث میں اموات کی وجوہات کے بارے میں رپورٹ
اپنی بیٹی شارلٹ برونٹی کے انتقال سے پہلے پیٹرک برونٹی (Patrick Brontë) نے اپنی رہائش گاہ ہاؤورث (Haworth)، مغربی یارکشائر، انگلینڈ کے خراب صحت کے حالات پر شک ظاہر کیا اور اشارہ دیا کہ یہی ہاؤورث میں اموات کی زیادہ شرح کی بنیادی وجہ ہے۔
اس دور کی رپورٹس کے مطابق ہاؤورث میں اموات کی شرح دیگر قریبی شہروں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی، جہاں تقریباً 40 فیصد آبادی چھ سال کی عمر سے پہلے ہی انتقال کر جاتی تھی، وہاں کی اوسط متوقع عمر صرف 25اعشاریہ8 سال تھی۔
پیٹرک برونٹی کی درخواست پر 1850 میں انجینئر اور سائنسدان بینجامن ہرشیل بیبیج (Benjamin Herschel Babbage) ہاؤورث پہنچے تاکہ تحقیق کریں۔
اپنی رپورٹ میں بیبیج نے حکام کو بتایا کہ ہاؤورث میں سیوریج کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں تھا۔ اس کی وجہ سے روزانہ شہر کی نالیوں میں انسانی اور حیوانی فضلہ نظر آنا معمول کی بات تھی۔بیبیج نے شہر کے قبرستان کی خراب حالت پر بھی روشنی ڈالی، جو ایک قریبی ٹیلے پر واقع تھا۔ ان کے مطابق قبرستان میں سڑتے ہوئے جسموں نے شہر کے پانی کے ذرائع کو آلودہ کر دیا اور انہیں بیکٹیریا سے بھر دیا۔
ان تمام عوامل کے سبب ہاؤورث کے لوگ متعدد بیماریوں کا شکار ہو گئے اور ان کے جسم بیماریوں کے خلاف مزاحمت کرنے کے قابل نہیں رہے۔
اس رپورٹ کے بعد برطانوی حکام نے فوری طور پر ہاؤورث میں سیوریج کی سہولیات قائم کرنے اور قبرستان کی بحالی کا کام شروع کیا۔پیٹرک برونٹی اپنی باقی خاندان کے افراد کے برعکس 1861 تک زندہ رہے،اور اسی سال وہ 84 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔