ایک جزیرہ جو توپوں میں جکڑ گیا… سرمایہ کار لابوان چھوڑ کر کیوں چلے گئے؟
برطانیہ نے برونائی پر بحری ناکہ بندی مسلط کر دی اور دھمکی دی کہ اگر انہیں لابوان نہ دیا گیا تو وہ اس پر گولہ باری کریں گے۔
انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے آغاز کے درمیان یورپی طاقتوں اور ریاستہائے متحدہ امریکا نے کئی ایشیائی ممالک پر وہ معاہدے مسلط کیے، جنہیں غیر مساوی معاہدات کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدے خاص طور پر چین پر چِنگ خاندان کے دور میں ،جاپان پر ٹوکوگاوا شوگونیت کے زمانے میں اور جزیرہ نما کوریا میں واقع جوسون سلطنت کے خلاف نافذ کیے گئے۔
ان معاہدوںکے ذریعے ان طاقتوں نے ایشیائی ممالک کو مجبور کیا کہ وہ معاشی اور تجارتی رعایتیں دیں یا اپنی زمینوں سے دستبردار ہو جائیں، خواہ یہ جنگ کے ذریعے ہو یا فوجی مداخلت کی دھمکی کے تحت۔
اسی تناظر میں 1846ء میں برونائی کو برطانیہ کے ساتھ ایک غیر مساوی معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا، جس کے نتیجے میں اسے اپنی اسٹریٹجک جزیرہ لابوان (Labuan) سے ہاتھ دھونا پڑا، کیونکہ اس کے خلاف فوجی مداخلت کی دھمکی دی گئی تھی۔
لابوان کی اہمیت
برونائی کی سلطنت کے بانی محمد شاہ کے دور سے لابوان سلطنت کا حصہ رہا اور اس کے انتظامی دائرہ کار میں شامل تھا۔ اگرچہ برونائی کے باشندے اس جزیرے پر زیادہ موجود نہیں تھے، لابوان ایک اسٹریٹجک مقام سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہاں چینی اور ملائی تاجروں نے طوفان سے بچنے کے لیے پناہ لی۔
بعد میں لابوان تجارتی مرکز میں تبدیل ہو گیا۔ یہ چین، برونائی اور مانیلا کے درمیان موجود تجارتی راستے کا ایک اہم اسٹاپ بن گیا، جہاں تاجر اپنی ضروریات پوری کرتے اور جزیرے سے گزرتے وقت کچھ ٹیکس بھی ادا کرتے تھے۔
جب ہسپانیوں نے مانیلا پر کنٹرول حاصل کیا، تو لابوان کی اہمیت مزید بڑھ گئی کیونکہ یہاں آنے والے تاجروں کی تعداد میں اضافہ ہوا، خاص طور پر وہ لوگ جو پینے کے صاف پانی اور کوئلے جیسی ضروری اشیاء لینے آتے تھے۔
اٹھارہویں صدی کے دوران برونائی کی سلطنت بار بار ڈاکوؤں کے حملوں کا شکار ہوئی۔ اس تکلیف کو ختم کرنے کی امید میں برونائی کی حکومت نے کئی مواقع پر برطانویوں کو پیشکش کی کہ وہ جزیرہ لابوان دے دیں، جس کے بدلے برطانوی بحریہ برونائی کے ساحلوں کو ڈاکوؤں سے محفوظ رکھے۔ لیکن برطانیہ نے یہ تجاویز مسترد کر دیں اور انہیں غیر مفید قرار دیا۔
برطانیہ کا لابوان پر قبضہ
جیسے جیسے یورپی طاقتوں کی موجودگی مشرق بعید کے خطے میں بڑھنے لگی، لابوان برطانیہ کے لیے ایک اہم مقام بن گیا۔ انیسویں صدی کے دوران فرانس، اسپین اور پرتگال نے اس خطے میں اپنی کالونیاں قائم کر رکھی تھیں۔ برطانیہ کے نزدیک لابوان ایک اسٹریٹجک جزیرہ تھا اور یہاں ایک بحری اڈہ قائم کرنے کی اہمیت تھی تاکہ چین کے ساتھ تجارتی راستوں کی حفاظت کی جا سکے۔
برطانیہ کو یہ بھی خدشہ تھا کہ برونائی لابوان کو کسی یورپی طاقت یا ریاستہائے متحدہ امریکا کو بیچ دے، جو لندن کے مفادات کو خطے میں نقصان پہنچا سکتا تھا۔1846ء میں برونائی کے ساتھ لابوان کے حقوق کے لیے معاہدے پر دستخط کے بعد، برطانیہ نے جزیرے پر قبضہ حاصل کرنے کی کوششیں ڈپلومیسی کے ذریعے کیں۔ لیکن جب سلطان برونائی عمر علی سیف الدین نے تاخیر اختیار کی، تو برطانیہ نے علاقے میں جنگی جہاز بھیج دیے اور برونائی کو بمباری کی دھمکی دی، جس کے نتیجے میں اسے لابوان دینے پر مجبور ہونا پڑا۔
برطانوی سرمایہ کاروں کا لابوان سے فرار
جب ان کے ملک کو لابوان مل گیا، تو برطانوی سرمایہ کار اس امید کے ساتھ وہاں آئے کہ وہ جزیرے کے کوئلے کے ذخائر سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس دور میں برطانیہ میں کہا جاتا تھا کہ اس جزیرے میں بڑی مقدار میں کوئلہ موجود ہے۔ اسی وجہ سے سرمایہ کاروں نے سوچا کہ اگر وہ یہاں کوئلے کی کانیں استعمال کریں تو یہ جزیرہ بھاپ کے جہازوں کے لیے ایندھن فراہم کرنے والا مرکز بن سکتا ہے اور انہیں زبردست منافع حاصل ہوگا۔
آہستہ آہستہ برطانوی سرمایہ کاروں نے کوئلے کی کھدائی اور کان کنی کے لیے ساز و سامان لابوان منتقل کرنا شروع کیا اور اسی دوران کافی تعداد میں چینی مزدور بھی لائے گئے تاکہ کانوں میں کام کریں۔تاہم چند ہی ہفتوں کے بعد سرمایہ کاروں کی امیدیں ناکام ہو گئیں۔
لابوان سے نکالا جانے والا کوئلہ کم معیار کا تھا، نرم اور کم حرارت دینے والا اور تھوڑے ہی عرصے میں راکھ میں بدل جاتا تھا۔
مزید برآں لابوان میں کوئلے کی کان کنی کے کام میں بھی مشکلات تھیں۔ بارش کے پانی سے کانیں اکثر بھر جاتی تھیں، جس کی وجہ سے کام رک جاتا۔
اس کے علاوہ جزیرے میں کوئلے کی نقل و حمل کے لیے ریلوے یا دیگر مواصلاتی سہولیات بھی موجود نہیں تھیں۔چونکہ لابوان کے کوئلے کی طلب کم تھی اور اس کی کھدائی مہنگی تھی، اس لیے برطانوی سرمایہ کاروں نے جزیرے کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنا ساز و سامان وہاں ہی چھوڑ دیا۔
اس دوران جو چینی مزدور وہاں کام کر رہے تھے، وہ تاجروں میں تبدیل ہو گئے اور یورپی جہازوں کے چین جانے سے پہلے جزیرے میں آنے والے سامان اور ایندھن سے فائدہ اٹھانے لگے۔
-
قدیم مصر کا حیرت انگیز راز…خوفو کی کشتی صدیوں بعد دوبارہ نمودار
تاریخ کی شان اور آج کے دور کی جھلک کو اکٹھا کرتا ایک خاص منظرمصری عظیم میوزیم میں ...
مشرق وسطی -
برطانیہ : بھوک ہڑتال کرنے والی 29 سالہ فلسطینی قیدی خاتون کی جان کو خطرات لاحق
برطانوی جیل میں قید فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے فورم 'فلسطین ایکشن ...
بين الاقوامى -
قبرستان کی وجہ سے برطانیہ کے معروف ادبی خاندان کا اچانک غائب ہونا سب کو حیران کر گیا
برونٹی خاندان کے افراد نے اہم ناول پیش کیے ،جو بے حد مقبول ہوئے اور آج تک فروخت ...
بين الاقوامى