مصر نے یمن میں معاملات کو حکمت کے ساتھ سنبھالنے کے حوالے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ مصر نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یمنی فریق کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
قاہرہ کا کہنا ہے کہ وہ یمن کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس حوالے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعمیری کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
یمن کی حالیہ صورت حال کے بارے میں مصری وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے "عرب جمہوریہ مصر ... یمن کی حالیہ صورت حال کو انتہائی دل چسپی کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر چوبیس گھنٹے رابطے جاری ہیں۔ مصر کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے برادر ممالک کی جانب سے موجودہ حالات سے دانش مندی کے ساتھ نمٹنے کی کوششوں پر کامل بھروسہ ہے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے کی اقدار کو فروغ ملے اور اس نازک مرحلے میں عرب صفوں کے اتحاد کا تحفظ کیا جا سکے جس سے یمن اور خطہ گزر رہا ہے۔"
بیان میں مزید کہا گیا ہے "عرب جمہوریہ مصر ... یمن میں استحکام کے حصول، اس کی خود مختاری کے تحفظ اور وہاں کے برادر عوام کے مفادات کے لیے سعودی اور اماراتی قیادت کی حکمت اور تعمیری طرز عمل کو سراہتا ہے۔"
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مصر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، یمنی فریق اور دیگر علاقائی و بین الاقوامی متعلقہ فریقوں کے ساتھ اپنے مسلسل رابطے جاری رکھنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گا، تاکہ یمن میں ایک جامع سیاسی تصفیے کی راہ ہموار ہو سکے جو یمنی عوام کے ایک محفوظ اور خوش حال مستقبل کی جائز امنگوں کو پورا کرے اور خطے کے امن و استحکام کو تقویت دے۔
دوسری جانب یمنی پارلیمنٹ نے حضرموت اور المہرہ میں تمام غیر قانونی فوجی نقل و حرکت کو فوری طور پر روکنے اور جنوبی عبوری کونسل (STC) سے ان مقامات اور کیمپوں سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا ہے جن پر ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر قبضہ کیا گیا ہے۔
یمنی پارلیمنٹ نے منگل کی شام حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل کے غیر ذمہ دارانہ فوجی اقدامات کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں صدارتی قیادت کونسل اور اس کے سربراہ کے تمام خود مختار فیصلوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ پارلیمنٹ نے متنبہ کیا کہ ایسی نقل و حرکت خطے کے امن و امان کے لیے سنگین خطرہ ہے اور حالات کو مزید بگاڑنے کا باعث بن رہی ہے۔