روس: فوجیوں کو غیر ملکی جاسوسوں کی رسائی سے بچنے کےلیے ٹیلیگرام میسجز سےدور رہنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس کے ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ کے وزیر مقصود شادیو نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام کے ذریعے بھیجے جانے والے میسجز غیروں ملکی انٹیلیز جنس اداروں کی رسائی میں آسکتے ہیں۔ اس لیے روسی فوجیوں کو ٹیلی گرام کے ذریعے بہمنی پیغام رسانی سے گریز کرنا چاہیے۔

ڈیجیٹل ڈویلپمنٹ کے امور کے وزیر نے یہ بات بدھ کے روز کہی ہے جس روسی خبر رساں ادارے انٹر فیکس نے رپورٹ کیا ہے۔

خیال رہے ٹیلی گرام روس میں ڈیجیٹل میسیجنگ کے لیے مقبول عام ذریعہ ہے۔ یوکرین کے خلاف لڑنے والی روسی افواج بھی ٹیلی گرام کو اپنے استعمال میں رکھتی ہیں۔

روسی فواج ۔یں ٹیلی گرام کے اس بڑھے ہوئے استعمال سے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ غیر ملکی جاسوسی ادارے روسی فوج کی نقل و حرکت اور اطلاعات سے نہ صرف فائیدہ اٹھا سکتے ہیں بلکہ روسی فوجیوں کی فوجی نوعیت کی بات چیت کو بھی دیکھ سکتی ہیں۔ اس وجہ سے روسی فوجیوں کو ٹیلی گرام پلیٹ فارم کے استعمال سے منع کیا گیا ہے۔

یہ افواہیں بھی ہیں کہ غیر ملکی انٹیلی جنس ادارے روسی فوجیوں کے ڈیجیٹل میسجز تک رسائی حاصل کرکے انہیں روس کے خلاف اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کررہی ہیں۔ یہ بات بھی روسی وزیر نے خبر رساں ادارے انٹر فیکس سے کہی ہے۔

روس میں ڈیجیٹل مواصلات کو ریگوںلیٹ کرنے والے ادارے کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ ٹیلی گرام کی سروسز کو سست کیا جا رہا ہے تاکہ تاکہ آن سرگرمیوں کو روکا جاسکے جو روسی قوانین کے منافی ہیں۔

کریملن نے بھی پچھلے ہفتے تصدیق کی تھی کہ میٹا نامی ادارے کے ذیلی پلیٹ فارم واٹس ایپ کو مکمل طور پر روسی قانون کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ اس کی جگہ روسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'میکس' کو واٹس ایپ کی جگہ بروئے کار لایا جائے۔ تاکہ جاسوسی کا خطرہ نہ رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں