ایران کے خلاف کارروائی نہ کرتے تو وہ ایٹمی بم حاصل کر لیتا:بنجمن نیتن یاھو
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں اور پاکستان کی ثالثی کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ اس صورتحال میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے موقف اختیار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے تہران کے خلاف کارروائی نہ کی ہوتی تو وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا۔
بنجمن نیتن یاھو نے اپنے بیانات میں کہا کہ اگر ہم حرکت میں نہ آتے اور ایران پر حملہ نہ کرتے تو وہ ایٹم بم حاصل کر چکا ہوتا اور یہ یہودی عوام کے خاتمے کی ابتدا ہوتی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ایک سال سے زائد عرصہ قبل یہ واضح ہو گیا تھا کہ تہران ہمیں ختم کرنے کے لیے ایٹم بم بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ہمیں تباہ کرنے کے لیے بم
بنجمن نیتن یاھو نے مزید کہا کہ اس سال ہمیں ایک بڑے امتحان کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ قبل ہمیں معلوم ہوا کہ ایران ہمیں تباہ کرنے کے لیے ایٹم بم تیار کرنے پر کام کر رہا ہے اور یہ کوئی خالی باتیں یا پروپیگنڈا نہیں ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکی فریق کے درمیان جنگ کو حتمی طور پر روکنے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے بات چیت کا نیا دور منعقد کرنے کے لیے پاکستانی کوششیں جاری ہیں۔
یہ بیانات ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کی جانب سے گذشتہ روز ٹیلی ویژن پر دیے گئے ان بیانات کے بعد سامنے آئے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی بھی بڑے خلا اور کچھ بنیادی مسائل حل طلب ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر جنہوں نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات میں حصہ لیا تھا نے مزید کہا کہ ہم حتمی بحث سے ابھی بھی دور ہیں۔
یاد رہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی مہلت اگلے بدھ کو ختم ہو رہی ہے جب تک کہ اس میں توسیع نہ کی جائے۔
اسی دوران اسرائیلی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فضائیہ جنگ کی طرف واپسی کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کسی بھی وقت جنگ بندی کے اچانک خاتمے کے لیے نظریں جمائے ہوئے ہے اور تیاری کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ جنگ 28 فروری سنہ 2026ء کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب اسرائیل اور امریکہ نے مشترکہ طور پر تہران پر شدید فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ ایرانی فوجی و سیاسی رہنما ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد ازاں یہ جنگ فوجی و ایٹمی تنصیبات، بجلی گھروں، پلوں اور میزائلوں کے ذخیرہ کرنے کے مقامات تک پھیل گئی تھی۔
دوسری طرف ایرانی افواج نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کی طرف میزائل اور ڈرون داغ کر جواب دیا اور اہم آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے گذشتہ آٹھ اپریل سنہ 2026ء کی صبح عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
-
ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے جوہری حقوق چھیننے کا کوئی حق حاصل نہیں: ایرانی صدر
ایران کے جوہری حقوق پر پابندی بلاجواز ہے: پزشکیان
مشرق وسطی -
ایران سے کشیدگی کے درمیان ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کی تعریف، 'عظیم اتحادی' قرار دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اسرائیل کو ایک "عظیم اتحادی" کے طور پر سراہا ...
مشرق وسطی -
ایران نے جنگ سے پہلے کی نسبت زیادہ رفتار سے لانچرز کو وسائل فراہم کیے ہیں: کمانڈر پاسداران
نور نیوز کے مطابق اتوار کو پاسدارانِ انقلاب کی ایروسپیس فورس کے کمانڈر نے کہا ہے ...
مشرق وسطی