تہران کی امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانے کی تردید، بات چیت جاری رکھنے کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران نے بین الاقوامی ثالثوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اوپر گرنے والے امریکی ہیلی کاپٹر کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا۔

العربیہ سے منسلک ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ یہ واقعہ آبنائے ہرمز میں کشیدہ سکیورٹی صورتحال کے باعث پیش آیا اور اسے ایران کی جانب سے دانستہ کارروائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ایرانی حکام نے اپنے رابطوں میں ثالثوں کو یہ بھی باور کرایا کہ وہ سفارتی کوششوں کے تسلسل کے خواہاں ہیں اور نہیں چاہتے کہ یہ واقعہ جاری مذاکراتی عمل کو متاثر کرے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے بعد ازاں ایک فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی افواج نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں کوئی فضائی کارروائی نہیں کی۔ اس طرح اس دعوے کی تردید کی گئی کہ امریکی ہیلی کاپٹر کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا تھا۔تاہم اس تردید کے باوجود تہران کی جانب سے فوجی وارننگز جاری کی گئی ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی ہیلی کاپٹر کے واقعے کی آڑ میں ایران کے خلاف کسی بھی حملے یا کشیدگی کی صورت میں ''فیصلہ کن جواب'' دیا جائے گا۔

امریکی مؤقف کی تصدیق

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ''العربیہ'' نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے معلومات نقل کیں کہ ایک ایرانی ڈرون نے عمان کے ساحل کے قریب امریکی ہیلی کاپٹر کو ٹکر ماری۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ حملہ دانستہ ہو سکتا ہے، تاہم امریکی حکام واقعے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا کہ ''اپاچی ''طرز کا ایک ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز میں معمول کی گشت کے دوران گر کر تباہ ہوا، تاہم اس کا عملہ محفوظ رہا۔ انہوں نے اس واقعے کے جواب میں امریکی ردعمل کا عندیہ بھی دیا۔

ایرانی متوازی پیغامات

اسی دوران ایرانی یقین دہانیوں کے ساتھ ساتھ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کے بیانات بھی سامنے آئے، جنہوں نے کہا کہ ایران گفتگو اور سفارت کاری کی زبان کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر سامنے والے فریق اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹتے ہیں تو ایران کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

قالیباف نے کہا کہ تہران اب بھی سیاسی حل کو اولین ترجیح دیتا ہے، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں یا دباؤ میں اضافہ ہوا تو ایران متبادل راستے اختیار کر سکتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی موقف میں سختی دیکھنے میں آئی، جہاں اسرائیلی آرمی چیف ایال زمیر نے کہا کہ ان کی افواج ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف مزید سخت اور گہرا حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکہ ایران مذاکرات (وضاحتی امیج)
امریکہ ایران مذاکرات (وضاحتی امیج)

کشیدگی کے دباؤ میں مذاکرات

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب حالیہ دنوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ کی ان کوششوں کے لیے بھی چیلنج بن رہی ہے جو تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے اور مہینوں سے جاری محاذ آرائی ختم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے پیغامات کا مقصد ہیلی کاپٹر کے واقعے کے اثرات کو محدود کرنا اور صورتحال کو امریکہ کے ساتھ براہِ راست تصادم میں بدلنے سے روکنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سیاسی رابطے اور سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا جا سکے۔

امریکی تحقیقات جاری رہنے کے باوجود فریقین اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ زمینی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو سفارتی عمل سے الگ رکھا جائے، تاکہ آبنائے ہرمز کا یہ واقعہ خطے میں ایک نئے محاذ آرائی کے آغاز میں تبدیل نہ ہو جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں