لبنان فرقہ وارانہ اور علاقائی کشمکش کا متحمل نہیں ہو سکتا:صدر عون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کے صدر جوزف عون نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ملک ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، جہاں اسے ایک خودمختار ریاست اور ملیشیاؤں کے تسلط کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ لبنان اس وقت ایسے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، جو فرقہ واریت اور علاقائی کشمکش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

لبنانی ایوانِ صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان کے مطابق عون نے سابق وزیر طونی سلیمان فرنجیہ ان کے اہلِ خانہ اور ساتھیوں کے قتل کی 48ویں برسی کے موقع پر کہا: ہم ایک ایسے لمحے میں ہیں جو نہ فرقہ وارانہ تعصب کی گنجائش رکھتا ہے اور نہ ہی علاقائی کھینچا تانی کی۔

انہوں نے مزید کہا: یہ دردناک برسی ایسے وقت میں آ رہی ہے، جب لبنان ایک اہم قومی امتحان سے دوچار ہے۔ یا تو اس کے شہری ایک ایسی خودمختار ریاست پر متفق ہوں جو اسلحے پر مکمل اختیار رکھتی ہو، قانون کی حکمرانی قائم کرے اور ہر شہری کا تحفظ اس کی وابستگی یا مقام سے بالاتر ہو کر یقینی بنائے یا پھر ملک ملیشیاؤں کی سوچ اور دوسروں کو خارج کرنے کی ثقافت کا یرغمال بنا رہے۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے مزید کہا: ہم ایک ایسے مرحلے میں ہیں، جہاں فرقہ وارانہ تعصب یا علاقائی کھینچا تانی کی کوئی گنجائش نہیں۔

آج قومی اتحاد محض تقریبات میں دہرایا جانے والا نعرہ نہیں بلکہ ایک وجودی ضرورت ہے، جو کھلے مکالمے، انصاف اور معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ مساوی سلوک کے ذریعے مضبوط ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایسے لبنان کے خواہاں ہیں، جہاں تمام شہری آزادی اور برابری کے ساتھ زندگی گزار سکیں، اور انہیں صرف جغرافیہ ہی نہیں بلکہ حقیقی شہریت اور قانون کی حکمرانی والی ریاست سے وابستگی بھی جوڑے۔

صدر عون کے مطابق اس دردناک واقعے کی یاد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم خون سے لکھے گئے اسباق سے وہ کچھ سیکھیں جو شاید امن کے برس ہمیں نہ سکھا سکے۔

ایک سچی قومی یادداشت اپنے زخموں میں تفریق نہیں کرتی بلکہ انہیں ساتھ لے کر آگے بڑھتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی تکرار نہ ہو۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں