ایران کی ورلڈ کپ ٹیم فیفا کے پاس اس دعوے کے ساتھ شکایت درج کروائے گی کہ انہیں شمالی امریکہ میں جاری ٹورنامنٹ کے دوران سفری پابندیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے ترجمان نے جمعرات کو کہا۔
ترجمان نے کہا، "ٹورنامنٹ کے لیے اپنی تیاری کے اوقات کافی پہلے سے جمع کروانے کے باوجود ایران کی قومی ٹیم کو ایک بار پھر منتظمین کی طرف سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے اس کے تکنیکی عملے کے لیے اپنے منصوبوں پر عمل درآمد متأثر ہوا ہے۔"
ایران کا اگلا میچ اتوار کو لاس اینجلس میں بیلجیم کے خلاف ہونا ہے جس سے دو دن پہلے وہ میکسیکو کے شہر تیجوانا میں واقع اپنے بیس کیمپ سے امریکہ جانا چاہتا تھا۔
لیکن ایرانی فیڈریشن نے کہا کہ اس کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
ترجمان نے کہا، "میچ لاس اینجلس میں مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے کھیلا جائے گا، اس کے پیشِ نظر ایران کی فٹ بال فیڈریشن نے درخواست کی کہ ٹیم کو میچ سے دو دن قبل لاس اینجلس جانے کی اجازت دی جائے۔"
نیز کہا، "اس کا مقصد کھلاڑیوں کو میچ کے حالات کے مطابق ڈھلنے کے لیے معقول وقت فراہم کرنا، ان کا آخری ٹریننگ سیشن مکمل کرنا اور تیاریوں کو حتمی شکل دینا تھا۔ فیڈریشن کی جانب سے پیش کردہ تکنیکی وجوہات کے باوجود درخواست دوبارہ مسترد کر دی گئی۔"
ایرانی اس بات پر بھی ناراض تھے کہ انہیں ورلڈ کپ میں اپنے پہلے میچ کی رات کو ہی لاس اینجلس چھوڑنا پڑا۔ یہ میچ نیوزی لینڈ کے خلاف 2-2 سے برابر رہا۔
امریکی انتظامیہ نے ایرانی دعوؤں کے مسترد کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس فیفا ٹاسک فورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریو گیولیانی نے پیر کے روز کہا کہ ایران کو پہلے ہی اطلاع دے دی گئی تھی کہ انہیں کھیل سے ایک دن پہلے ہی امریکہ آنے کی اجازت ملے گی۔
گیولانی نے سی بی ایس نیوز کو بتایا، "ٹیم کو سے ایک دن پہلے آنے کی اجازت ہو گی۔ انہیں میچ ختم ہونے کے بعد اسی دن ملک چھوڑنے کے لیے کہا جائے گا۔ اور وہ لاس اینجلس میں دوبارہ ایسا کر سکیں گے۔"
انہوں نے مزید کہا، 26 جون کو سیٹل میں مصر کے خلاف ایران کے آخری گروپ میچ کے لیے بھی یہی طریقہ کار ہو گا۔