مصر: وزارت داخلہ میں تکنیکی شعبے کے سربراہ جنرل سعید ہلاک
گھر سے دفتر جا رہے تھے، حملہ آوروں نے گاڑی میں نشانہ بنایا
مصری وزارت داخلہ کے سینئیر عہدے دار اور وزیر داخلہ کے دفتر میں تکنیکی امور کے انچارج جنرل محمد سعید کو منگل کے روز بندوق برداروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ جنرل محمد سعید کی ہلاکت کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے دفتر کے لیے نکلے تھے۔
حملہ آور اس کارروائی کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جن کی گرفتاری کیلیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ حملہ آوروں نے جنرل سعید کو گاڑی میں ہی نشانہ بنایا ، جہاں موقع ہر ہی ان کی موت واقع ہو گئی۔
واضح رہے جب سے فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے منتخب صدر کا تختہ الٹ کر امور حکومت کو عبوری حکومت کے ذریعے اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ہیڈ کوارٹرز، عبوری وزیر داخلہ محمد ابراہیم اور دیگر حکام مسلسل ایسی کارروائیوں کی زد میں ہیں۔
اس سے پہلے ایسی ہی ایک کارروائی کے دوران وزیر داخلہ محمد ابراہیم کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ جس میں وزیر داخلہ تو محفوظ رہے لیکن ایک اہلکار مارا گیا تھا۔ وزارت داخلہ نے جنرل محمد سعید کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔
ابھی چار روز قبل وزارت داخلہ کے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے کار بم دھماکہ کیا گیا تھا ، اس بڑی کارروائی کے بعد ایک جنرل کی سطح کے اہم عہدے دار کی ہلاکت بڑا واقعہ ہے۔ ابھی کسی گروپ نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
-
مصر کے علاقے سیناء میں فوجی بس پر حملہ، 4 اہلکار ہلاک
مبارک اقتدار خاتمے کے تین سال مکمل ہونے پر تشدد کی لہر
مشرق وسطی -
مصر: عوامی مزاحمتی تحریک کی تیسری سالگرہ، 7 مظاہرین ہلاک
دو دھماکے، پولیس کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ
مشرق وسطی -
مصر: احتجاج، ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 ہو گئی
کئی مرنے والے مظاہرین کی موت سر پر گولی لگنے سے ہوئی
مشرق وسطی