.

مصر: انصار بیت المقدس کے لیڈر کی ہلاکت کی تردید

جہادی بھائی شادی المنیعی ہلاک ہوا ہے اور نہ وہ گروپ کا لیڈر ہے:بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سخت گیر جنگجو تنظیم انصار بیت المقدس نے جزیرہ نما سیناء میں دوروز پہلے ایک کارروائی میں اپنے لیڈر کی ہلاکت کی تردید کردی ہے۔

انصار بیت المقدس نے اتوار کو آن لائن ایک بیان جاری کیا ہے جس میں سکیورٹی ذرائع اور مقامی میڈیا کے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ شادی المنیعی اپنے پانچ ساتھیوں سمیت جمعہ کو ایک جھڑپ میں مارے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''انھوں نے جہادی بھائی شادی المنیعی کی موت کا اعلان کیا ہے اور یہ کہ وہ گروپ کے لیڈر تھے۔مگر وہ مارے گئے ہیں اور نہ تنظیم کے لیڈر ہیں''۔

مصر کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نےیہ دعویٰ کیا تھا کہ شادی المنیعی سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں مارے گئے ہیں۔سکیورٹی اہلکاروں نے سیناء کے وسطی علاقے میں ان کی کار پر فائرنگ کی تھی اور وہ مبینہ طور پر اس وقت ایک گیس پائپ لائن پر حملہ کرنے والے تھے۔

واضح رہے کہ مصرکی سکیورٹی فورسز غزہ کی پٹی اور اسرائیل کی سرحد کے ساتھ واقع جزیرہ نما شمالی سیناء میں القاعدہ سے متاثر جنگجو گروپ انصار بیت المقدس اور دوسرے جنگجوؤں کے خلاف گذشتہ چند ماہ سے ایک بڑی کارروائی کررہی ہیں۔شادی المنیعی کو سیناء میں سکیورٹی فورسز پر حالیہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ قراردیا جاتا ہے۔

انصار بیت المقدس اور دوسرے جنگجو گروپوں پر 3 جولائی 2013ء کو منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد مصری سکیورٹی فورسز پر حالیہ بیسیوں حملوں کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ان حملوں میں ڈیڑھ دو سو سکیورٹی اہلکار مارے جاچکے ہیں۔