نوعمر فلسطینی اغوا کے بعد صبح سویرے شہید
انتقامی طور پر شہید کیے جانے کے شبہ ہے: پولیس
ایک فلسطینی نو عمر کو بدھ کے روز صبح سویرے اغوا کرنے کے بعد تین مبینہ طور پر اسرائیلی نوجوانوں کی پر اسرار موت کا بدلہ لینے کے لیے شہید کر دیا گیا ہے۔ فلسطینی نوعمر کی اس انتقامی شہادت کی اسرائیلی فوج کے زیر انتظام ریڈیو نے بھی بالواسطہ تصدیق کر دی ہے۔
اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزن فیلڈ کے مطابق شہید کیے گئے فلسطینی بچے کو ایک گاڑی پر زبردستی لے جایا گیا ۔ جس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ اس بچے کو اغوا کیا گیا تھا۔
اسرائیلی پولیس ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اغوا کے بعد بچے کی تلاش کے لیے سڑکیں بھی بلاک کر دی گئی تھیں۔ لیکن کامیابی نہ ہوئی۔
دوسری جانب اسرائیلی مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک فلسطینی بچے کو ایک مارکیٹ کے قریب نامعلوم گاڑی کے ذریعے اغوا کر کے لے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ بعد ازاں پولیس کو ایک بچے کی لاش مل گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس ترجمان روزن فیلڈ کا کہنا ہے کہ بچے کی لاش پولیس کو یروشلم سے متصل جنگل سے ملی ہے اور پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ اس بچے کو انتقام کا نشانہ تو نہیں بنایا گیا۔
واضح رہے فلسطینی بچے کی شہادت کا یہ واقعہ تین اسرائیلی نو عمروں کی آخری رسومات کے ایک روز بعد پیش آیا ہے۔ ان تین اسرائیلیوں کو 12 جون کو اغوا کیا گیا تھا، البتہ ان کی لاشیں پیر کے روز ملی تھیں۔
ان اسرائیلیوں کی لاشوں کے ملنے کے بعد اسرائیل نے انتقام لینے کی دھمکی دی تھی، جبکہ حماس نے اس واقعے سے تعلق کی تردید کی ہے۔
-
اسرائیلی فوج کی چھاپہ مار کارروائی میں فلسطینی لڑکا شہید
اسرائیلی فوج نے منگل کو علی الصباح ایک فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ ...
مشرق وسطی -
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملہ، ایک فلسطینی شہید دو زخمی
ماہ جون میں اسرائیل نے غزہ میں تین فلسطینی شہید کیے
مشرق وسطی -
فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کریک ڈاؤن میں تیزی
تشدد سے کم عمر فلسطینی لڑکا شہید ہو گیا
بين الاقوامى