دسیوں یرغمال کرد فوجی داعش کے ہاتھوں قتل؟
سخت گیر تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام ’’داعش‘‘ کی جانب سے اتوار کو ان کرد فوجیوں کی تصاویر جاری کی گئی ہیں جنہیں ایک ماہ قبل شمالی عراق کے شہر کرکوک پر حملے کے دوران مبینہ طور پر یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعش کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو اور تصاویر میں یرغمال بنائے گئے البیشمرکہ فوجیوں کو آہنی سلاخوں سے تیار کردہ پنجروں میں قیدیوں کے لئے مخصوص نارنجی رنگ کا پہنے ہاتھ اور پائوں باندھے دکھایا گیا ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں قتل کر دیا گیا ہے یا وہ ابھی تک زندہ ہیں؟
عراقی کردستان کے حکام اور بعض قبائلی عمائدین کا خیال ہے کہ وہ داعش کے ہاں یرغمال بنائےگئے کرد فوجی تاحال زندہ ہیں۔ انہیں قتل نہیں کیا گیا، تاہم داعش کے طریقہ کار کو سامنے رکھتے ہوئے بعض ماہرین ان کے قتل کیے جانے کا شبہ بھی ظاہر کر رہے ہیں۔
ماہرین کا خیال رہے کہ اگرچہ داعش کی جانب سے زیر حراست کرد فوجیوں کو ہلاک کیے جانے کا کوئی بیان تو سامنے نہیں آیا مگر ماضی میں جب بھی داعش کی جانب سے کسی یرغمال کی اس انداز میں ویڈیو یا تصویر سامنے لائی گئی تو اس کے کچھ ہی وقت بعد اسے قتل کر دیا گیا ہے۔ عین ممکن ہے کہ البیشمرکہ فوجیوں کو بھی قتل کر دیا گیا ہو۔
مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ فروری کے اوائل میں داعش کی جانب سے جاپانی صحافی کی زندہ حالت میں ایسی ہی ایک تصویر جاری کی گئی جس کے اگلے روز اسے قتل کر دیا گیا۔ اسی دوران یرغمال بنائے گئے اردنی پائلٹ معاذ الکساسبہ کی پنجرے میں بند تصویر جاری کی گئی لیکن اس کے ساتھ اردن میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی ساجدہ الریشاوی کی رہائی کی شرط پر معاذ کو رہا کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ مذاکرات میں ناکامی کے ایک روز بعد معاذ الکساسبہ کو زندہ جلا دیا گیا۔
ایک تیسری مثال حال ہی میں لیبیا سے گرفتار ہونے والے 21 قبطیوں کا قتل ہے۔ ان کے قتل سے قبل بھی ان کی زندہ حالت میں تصاویر اور ویڈیوز جاری کی گئی تھیں جس کے ایک ہی روز بعد انہیں بھی ذبح کردیا گیا۔
داعش کی جانب سے اتوار کو علی الصباح سوشل میڈٰیا پر کرد فوجیوں کی جو تصاویر جاری کی ہیں اس کے بعد ان کے قتل کیے جانے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ فی الحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ تصاویر کب اور کہاں تیار کی گئی ہیں۔ تاہم مختلف مقامات پر تیارکردہ تصاویر میں جنگی قیدی بنائے گئے کرد فوجیوں کو لوہے کے پنجروں میں بند دکھایا گیا ہے۔ ایک تصویر میں انہی قیدیوں کو پک اپ گاڑیوں میں پنجروں میں رکھا دکھایا گیا۔ ایک دوسری تصویر میں ان پنجروں کو زمین پر رکھے دکھایا گیا ہے۔ ہر پنجرے کے قریب ایک نقاب پوش اور مسلح داعشی جنگجو چوکس کھڑا ہے۔
ویڈیو میں ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کرد عوام کو بھی پیغام دیا گیا ہے۔ پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہم آپ کے دشمن نہیں بلکہ ہماری جنگ ان کفار اور ان کے لادین ایجنٹوں کے خلاف ہے جو آپ سب کو کفر والحاد کے ذریعے جہنم کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اے بیشمرکہ ’غلط ‘ راستہ ترک کر ورنہ تمہارا انجام بھی وہی ہو گا جو ان پنجرے والوں کا ہونے والا ہے۔
انہی تصاویر میں ایک شخص کو مقامی کرد روایتی لباس میں ملبوس قیدیوں کا انٹرویو لیتے بھی دکھایا گیا ہے جو پنجرے میں بند قیدیوں سے کرد زبان میں گفتگو کر رہا ہے۔
ویڈیو میں دکھائے گئے عراقی فوجیوں میں ایک بریگیڈیئر جنرل، ایک کرنل، تین کرکوک کے پولیس اہلکار اور 16 البیشمرکہ فوجیوں کی شناخت کی گئی ہے۔ ان سب کو ایک ماہ قبل شمالی شہر کرکوک میں داعش کے حملے میں یرغمال بنایا گیا تھا۔
-
البشمرکہ، عوامی لشکر کے داعش کے خلاف حملے
اربیل، کرکوک پر داعش کے حملے ناکام بنانے میں اتحادی فضائیہ بھی سرگرم
مشرق وسطی -
داعش نے مصر کے 21 قبطی عیسائی 'قتل' کر دیئے
قاہرہ دہشت گردی کے قابل نفرت عمل کا مناسب دے گا: السیسی
بين الاقوامى -
داعش نے مصری فوج کے 10 حامیوں کے سر قلم کر دیے
شدت پسند تنظیم دولت اسلامی"داعش" نے ایک تازہ ویڈیو فوٹیج جاری کی ہے جس ...
مشرق وسطی