ماہ صیام میں تزئین وآرائش، بیت المقدس کی بقاء کی جنگ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ماہ صیام کی آمد سے پہلے ہی فلسطین کے مختلف شہروں بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس میں ایک نئی رونق اور چہل پہل شروع ہوجاتی ہے۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محلوں، گلیوں، گھروں اور مساجد کی صفائی میں جُت جاتے ہیں۔ شہریوں کی فلاح وبہبود کے لیے سرگرم کمیٹیاں شہر کی تزئین آرائش میں لگ جاتی ہیں اور رمضان المبارک تک شہر کو برقی قمقموں اور چراغاں کے ذریعے ایک نئے انداز میں خوبصورت بنایا جاتا ہے تاکہ باہرسے بیت المقدس کی زیارت اور قبلہ اول میں عبادت کی غرض سے آنے والے شہرمقدس کی تاریخ کے ساتھ اس کی موجودہ خوبصورتی سے بھی لطف اندوز ہوسکیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس بار بھی رمضان المبارک سے کئی روز قبل شہر کی صفائی اور تزئین وآرائش کی مہم شروع ہوگئی تھی۔ اس بار یہ مہم زیادہ منظم انداز میں شروع ہوئی جسے "بیت المقدس فلسطین کا ہے" کاعنوان دیا گیا۔

اب کی بار شہرکی تزئین اور صفائی ستھرائی کی مہم کی نگرانی محکمہ اوقاف ومذہبی امور نے کی لیکن مہم میں پرانے بیت المقدس کے ایک ایک گھرانے کے لوگوں نے حصہ لیا۔ اگرچہ صفائی اورتزئین وآرائش کی مہم میں فلسطینیوں کو حسب معمول اسرائیل کی جانب سے سخت پابندیوں اور مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر وہ استقبال رمضان کی خاطر اپنی مہم کامیابی سے ہم کنار کرگئے۔

فلسطینی عوام ویسے تو نفاست پسند واقع ہوئے ہیں۔ خاص طور پر بیت المقدس کی صفائی ستھرائی اور مسجد اقصیٰ کی صفائی اور تزئین وآرائش میں وہ بڑھ چڑھ کرحصہ لینے کے ساتھ سال بھر صفائی مہم جاری رکھتے ہیں۔ رمضان المبارک میں دوسرے مسلمان ملکوں سے زائرین کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے۔ اس لیے صفائی کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔

مقامی صحافی راسم عبدالواحد کا کہنا ہے کہ "بیت المقدس کے باشندے ہرسال پہلے سے نئے انداز میں شہرمقدس کی تزئین وآرائش کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی بیت المقدس کو دل وجان سے چاہتے ہیں۔ یہ قابض صہیونی دشمن کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ فلسطینیوں کے لیے بیت المقدس کی اہمیت اور حیثیت غیرمعمولی ہے۔"

باب الحطہ کمیٹی کے ترجمان سامر خلیل نے بتایا کہ پچھلے پندرہ سال سے مختلف کمیٹیاں ماہ صیام سے قبل شہر کی صفائی کا کام کرتی ہیں۔ سماجی اور دینی نوعیت کے پروگرامات ترتیب دیتی اور رمضان المبارک کے استقبال کےلیے مہینا بھر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں۔ لوگ صفائی مہم اور تزئین وآرائش پراٹھنے والے اخراجات کے لیے دل کھول کر عطیات دیتے ہیں۔ اگرچہ اسرائیلی پابندیوں کے باعث خود بیت المقدس کے باشندے بدترین غربت اور افلاس کا سامنا کررہے ہیں مگر بت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے لیے وہ ہرممکن مدد کرتے ہیں۔

مسجد اقصیٰ کی تزئین وآرائش محکمہ اوقاف کی جانب سے کی جاتی ہے۔ چونکہ ماہ صیام کے دوران مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے والوں کی تعداد بعض اوقات لاکھوں تک چلی جاتی ہے۔ اس لیے قبلہ اول کی صفائی کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ماہ صیام میں افطار و سحری کا بھی مسجد اقصیٰ میں اہتمام ہوتا ہے۔ یہ تمام امور مقامی کمیٹیوں کی معاونت سے انجام دیے جاتے ہیں۔

مسجد اقصیٰ میں نماز اور عبادت کی ادائی میں فلسطینیوں کو اسرائیل کی جانب سے پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر پابندیوں کے باوجود قبلہ اول تک پہنچنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔ نمازیوں کی تعداد میں زیادتی کی ایک وجہ دوسرے ممالک سے آنے والے زائرین بھی ہیں جو ہرسال پہلے کی نسبت زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والے زائرین اور سیاح ماہ صیام میں بیت المقدس کے باشندوں کے لیے باران رحمت ثابت ہوتے ہیں کیونکہ بیت المقدس کے مردہ بازاروں کی رونقیں بھی بحال ہوجاتی ہیں۔

ایک مقامی سماجی کارکن عمار الصدر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہرآنے والے مہمان کی بھرپور خاطر مدارت کرتے اور اسے خوشی پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم بیت المقدس سے بھی اٹوٹ محبت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مقدس شہر کے تحفظ اور اس کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے دن رات مصروف رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کی تزئین وآرائش کی مہم میں ہمارے ساتھ ہر عمر اور ہر جنس کے افراد شامل ہوتے ہیں۔ ہر شخص خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اہم مجبور بھی ہیں کیونکہ ہم پرایک غاصب ریاست کی حکومت ہے جس کی مسلط کردہ پابندیوں کے باعث بیت المقدس کے 80 فی صد باشندے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارتے ہیں۔ اسرائیل ہم سے خوشیاں چھین رہا ہے اور ہم اپنی اور بیت المقدس کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں