عراق : سبایکر کیمپ حملہ کیس ، 40 افراد کو سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق میں جمعرات کے روز مرکزی فوجداری عدالت نے بغداد کے شمال میں سبایکر فوجی کیمپ میں قتل عام میں ملوث 40 افراد کو موت کی سزا سنائی ہے۔

عراقی جوڈیشنل اتھارٹی کے ترجمان بیرسٹر عبدالستار بيرقدار نے بتایا کہ "مرکزی فوجداری عدالت کے سیکنڈ کمیشن نے سبایکر کیمپ حملہ کیس میں 47 ملزمان کے خلاف سماعت مکمل کی۔ واقعے میں شریک 40 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے جب کہ بقیہ 7 ملزمان کو ناکافی ثبوت کی بنا پر رہا کردیا گیا"۔ جون 2014 میں "داعش" تنظیم کی جانب سے کیے جانے والے اس حملے میں کم از کم 1700 بھرتی شدہ افراد مارے گئے جن میں اکثریت شیعوں کی تھی۔

ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ سزا ملزمان کی حاضری میں سنائی گئی یا غیرحاضری میں، اس کے علاوہ مجرموں کے حوالے سے تفصیلات بھی نہیں فراہم کی گئیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ "فیصلہ انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون کے آرٹیکل 4 کے تحت سنایا گیا"۔

انہوں نے بتایا کہ "فوجداری عدالت کا فیصلہ ابتدائی ہے اور کورٹ آف کیسیشن کے زیرغور ہے"۔

سبایکر.. عراقی دارالحکومت بغداد سے 160 کلومیٹر شمال میں واقع شہر تکریت کے نزدیک ایک فوجی کیمپ کا نام ہے۔ جس وقت "داعش" تنظیم نے کیمپ کو نشانہ بنایا تھا، اسی عرصے میں تنظیم نے عراق کے شمالی صوبوں میں بھی حملے کیے تھے جن میں صلاح الدین صوبہ شامل ہے۔

اس قتل عام نے جو داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے مسلح عناصر کی جانب سے اجتماعی قتل کی ایک بدترین کارروائی شمار کی جاتی ہے عراق میں عوامی سطح پر شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں