یمن : صنعاء میں اتوار کو " تنخواہوں کے انقلاب " کے لیے تیاری
یمن کے دارالحکومت صنعاء میں انسانی حقوق کے کارکنان اور سرکاری ملازمین نے اتوار کے روز ایک بڑے مظاہرے کے لیے بھرپور تیاری کا آغاز کر دیا۔ مظاہرے میں حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا جائے گا کہ تین ماہ سے زیادہ عرصے سے تاخیر کا شکار تنخواہوں کی فوری ادائیگی کی جائے۔
اس سلسلے میں سوشل میڈیا کے ذریعے دارالحکومت میں مقامی آبادی پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تنخواہوں کے مطالبے کے واسطے ہونے والے پُر ہجوم مظاہرے میں شرکت کے لیے اتوار کے روز سڑکوں پر نکل آئیں۔
کارکنان کا کہنا ہے کہ دس لاکھ سے زیادہ سرکاری ملازمین کے لیے ان کی تنخواہیں گزر بسر کا واحد ذریعہ ہیں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے نتیجے میں ملازمین کو الم ناک صورت حال کا سامنا ہے جن پر قرضوں اور کرایوں کا بھاری بوجھ آ چکا ہے۔ کارکنان نے سرکاری ملازمین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بقایاجات کے حصول کے لیے اتوار کے روز گھروں سے باہر نکلیں تاکہ تین ماہ سے جس سنگین معاشی صورت حال کا سامنا ہے اس پر قابو پایا جا سکے۔
حوثی باغیوں کے صنعاء پر قبضے کے بعد اکتوبر کے اوائل میں پہلی مرتبہ یمنی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرہ دیکھا گیا۔ تاہم نو اکتوبر کو ہونے والا یہ مظاہرہ صنعاء میں تعزیتی اجتماع میں ہونے والے دھماکے کے واقعے کے سبب دھندلا گیا تھا۔
رواں ماہ 12 نومبر کو صنعاء کے التحریر اسکوائر پر معزول صدر صالح کی ہمنوا عسکری اہل کاروں نے تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تاہم حوثی باغیوں کی ملیشیاؤں نے کریک ڈاؤن کا سہارا لیتے ہوئے مظاہرے میں شریک کئی افراد کو اغوا بھی کر لیا۔
اسی روز حوثیوں کے مسلح عناصر نے صنعاء یونی ورسٹی میں پروفیسروں کی انجمن کے ایک اجلاس میں اساتذہ پر دھاوا بول دیا تھا۔
اس موقع پر معزول صدر صالح کی پیپلز کانگریس پارٹی کے اہم رہ نما اور سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر ابوبکر القربی نے مظاہرین کے خلاف حوثیوں کے کریک ڈاؤن کی پر زور مذمت کی۔ القربی کا کہنا تھا کہ " شہریوں کو پر امن طریقے سے اپنے مطالبات پیش کرنے سے روکنے کے واسطے طاقت کا استعمال قبول نہیں کیا جا سکتا"۔
اتوار کے روز مقررہ مظاہرے کی تیاری کے حوالے سے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے انسانی حقوق کے کارکن محمد سليم کا کہنا تھا کہ " میں سمجھتا ہوں کہ حوثیوں کا موقف اب پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکا ہے.. بالخصوص عوامی غم وغصے میں اضافے اور معزول صدر صالح کی پیپلز کانگریس پارٹی کے اندر حوثیوں کے خلاف صف آرائی نمایاں ہونے کے بعد"۔
-
یمن فضائی حملوں میں متعدد باغی ہلاک اور زخمی
یمن کے شہر مآرب کے مغربی علاقے صرواح میں عرب اتحادی طیاروں کے ذریعے کی گئی بمباری ...
بين الاقوامى -
یمن: حوثی ملیشیاؤں کے ہاتھوں عسکری اہل کاروں کا اغوا
یمن میں "العربیہ" کے ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیاؤں نے پیر اور منگل ...
بين الاقوامى -
یمن: تعزکے اہم فوجی اڈے پرسرکاری فوج کا کنٹرول،30 باغی ہلاک
یمن کی سرکاری فوج اور اس کی معاون ملیشیا نے شورش زدہ شہر تعز کے شمال مغرب میں واقع ...
مشرق وسطی