.

موصل یونی ورسٹی میں گولہ بارود نصب.. صوبائی عمارت پر داعش کا قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبے نینوی کی کونسل کے رکن خلف الحدیدی نے انکشاف کیا ہے کہ داعش تنظیم نے صوبائی کونسل کی نئی عمارت میں اپنے ارکان تعینات کر دیے ہیں۔ الحدیدی کے مطابق اس طرح کی بھی معلومات ہیں کہ داعش نے موصل یونی ورسٹی کی عمارت میں دھماکا خیز مواد نصب کر دیے ہیں۔

عراقی عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جمعے کے روز موصل کے ہوائی اڈے کے قریب دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے کو داعش تنظیم کے قبضے سے واپس لے لیا۔

نینوی کی صوبائی کونسل کے مطابق موصل کے مشرق میں داعش کے قبضے سے آزاد کرائے جانے والے علاقوں کی تعداد 50 سے زیادہ ہوچکی ہے۔

عراقی مشترکہ فورسز کا بائیں حصے کی جانب دوسرے اور چوتھے پُل پر کنٹرول ہے اور وہ دریا کے کنارے سے محض 400 میٹر کی دوری پر ہیں جب کہ داعش تنظیم علاقے کے مقابل کنارے سے عراقی فورسز کی ٹکڑیوں پر مارٹر گولوں سے حملے کر رہے ہیں۔

موصل میں داعش کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں : پینٹاگون

نینوی کونسل کے رکن نے توقع ظاہر کی ہے کہ عراقی مشترکہ فورسز دریا کے کنارے پہنچ کر عارضی طور پر رک پیش قدمی سے رک جائیں گی تاکہ شہریوں کو نکالا جا سکے۔

ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک ذمے دار نے عراقی فوج کے نینوی صوبے کی عمارت میں داخل ہوجانے کی تصدیق کی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عراقی فورسز میں اسپیشل آپریشنز کے کمانڈر سامی العارضی نے باور کرایا ہے کہ ان کی فورسز موصل یونی ورسٹی کے ٹکنالوجی انسٹی ٹیوٹ اور داخلی شعبوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد یونی ورسٹی میں کافی اندر تک داخل ہوچکی ہیں۔

اس پیش رفت کے تناظر میں پینٹاگون نے موصل کے مشرقی حصے میں پیش قدمی پر عراقی سکیورٹی فورسز کو مبارک باد دی ہے۔ ساتھ ہی پینٹاگون کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی بہت سا کام باقی رہ گیا ہے تاہم موصل میں داعش کے دن اب تھوڑے رہ گئے ہیں۔

تلعفر کے آپریشن میں "موبیلائزیشن" کے 3 گروپ شریک

دوسری جانب نینوی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ احمد الجربا کے مطابق تلعفر کو واپس لینے کے لیے ہونے والے آپریشن میں ابتدائی طور پر پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا کے صرف 3 گروپوں کی شرکت پر اتفاق رائے ہوا ہے۔

الجربا کا کہنا ہے کہ موبیلائزیشن ملیشیا کے یہ گروپ تلعفر کو آزاد کرانے کے لیے عنقریب شروع ہونے والے آپریشن میں عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی ہدایات کے پابند ہوں گے۔ الجربا کے مطابق تلعفر میں موجود داعش کے ارکان " تنظیم کے سخت جان ترین جنگجو" ہیں۔