عراق میں تیل پر قبضہ کرنے کے لیے نہیں ہیں : امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس پیر کے روز غیر اعلانیہ دورے پر عراقی دارالحکومت بغداد پہنچ گئے۔
میٹس نے دوران سفر اپنے ساتھ موجود صحافیوں کے ایک چھوٹے مجموعے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " میں سمجھتا ہوں کہ یہاں موجود ہم سب ہی لوگ امریکا میں گیس اور تیل کی ادائیگی کرتے ہیں۔ میرے خیال میں مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا"۔ میٹس نے مزید کہا کہ " ہم عراق میں کسی کے تیل پر قبضہ کرنے کے لیے نہیں ہیں"۔
امریکی افواج اتوار کے روز مغربی موصل کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے شروع کیے جانے والے فوجی آپریشن میں اگلی صفوں میں شریک ہے۔
اس سے قبل میٹس ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات پہنچے تھے۔ گزشتہ ماہ وزیر دفاع کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ میٹس کا مشرق وسطی کا پہلا دورہ ہے۔
ریٹائرڈ جنرل جمیز میٹس جو عراق اور افغانستان میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں.. خطے کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ امریکی مرکزی کمان کے سربراہ ہونے کے زمانے میں وہ مسلسل خطے کا دورہ کیا کرتے تھے۔
امریکی وزیر دفاع نے گزشتہ ہفتے برسلز اور میونخ کے اجلاسوں میں شرکت کی تھی۔ اس شرکت کا مقصد یورپ اور نیٹو اتحاد میں امریکی شراکت داروں کو یہ اطمینان دلانا تھا کہ واشنگٹن اپنے پرانے اتحادوں کی سپورٹ جاری رکھے گا.. ساتھ ہی وہائٹ ہاؤس اور کرملن کے قریب آنے کے سبب پیدا ہونے والے اندیشوں سے متعلق تشویش دور کرنا بھی تھا۔
-
عراق : موصل کے مغرب میں سات دیہات داعش سے آزاد
عراق میں موصل شہر کے مغربی حصے کو داعش تنظیم سے آزاد کرانے کے لیے شروع کیے گئے ...
مشرق وسطی -
پاسداران انقلاب کا شام ، عراق اور یمن میں مسلسل فوج بھیجنے کا اعتراف
ایرانی پاسداران انقلاب کی زمینی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد پاک پور نے اس ...
بين الاقوامى -
ڈونلڈ ٹرمپ کا عراقی وزیراعظم سے ملاقات سے انکار
‘عراق کو ایران کی گود سے نکلنا ہوگا‘
بين الاقوامى