.

سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ، شدّت پسندوں کا آخری پَتّہ بھی گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی فرماں روا کی جانب سے مملکت میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کا دیا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ سعودی حکومت اس بات کی شدید خواہش رکھتی ہے کہ عورت معاشرے کا ایک فعّال عنصر ہو اور اس حق سے فیض یاب ہو جو سماجی وجوہات کی بنا پر معلق تھا۔

سعودی عرب میں مختلف میدانوں میں اصلاحات اور بہبود کا سفر جاری ہے۔

خواتین کے گاڑی چلانے سے متعلق فیصلہ اس بات کو باور کراتا ہے کہ سعودی معاشرہ ترقیاتی اقدامات کو قبول کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور معاشرے میں جو امور معطّل تھے وہ اب قصّہِ پارینہ بن چکے ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران مذہبی شدت پسندوں نے عورت کے ہر شرعی حق پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس میں خواتین کا گاڑی چلانا بھی شامل ہے۔ تاہم منگل کے روز سامنے آنے والا تاریخی فیصلہ اس جانب اشارہ ہے کہ اس فیصلے کو سعودی عرب کی سینئر علماء کمیٹی میں اکثر ارکان کی موافقت حاصل ہے۔

شاہی فرمان پر عمل درامد کے لیے متعلقہ ادارے اور حکام آئندہ سال جون تک تمام تر مطلوبہ امور اور انفرا اسٹرکچر کی فراہمی پر کام کریں گے جن میں ٹریفک سکیورٹی اینڈ سیفٹی اور ڈرائیونگ سکھانے والے ادارے شامل ہیں۔