سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ، شدّت پسندوں کا آخری پَتّہ بھی گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سعودی فرماں روا کی جانب سے مملکت میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کا دیا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ سعودی حکومت اس بات کی شدید خواہش رکھتی ہے کہ عورت معاشرے کا ایک فعّال عنصر ہو اور اس حق سے فیض یاب ہو جو سماجی وجوہات کی بنا پر معلق تھا۔

سعودی عرب میں مختلف میدانوں میں اصلاحات اور بہبود کا سفر جاری ہے۔

خواتین کے گاڑی چلانے سے متعلق فیصلہ اس بات کو باور کراتا ہے کہ سعودی معاشرہ ترقیاتی اقدامات کو قبول کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور معاشرے میں جو امور معطّل تھے وہ اب قصّہِ پارینہ بن چکے ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران مذہبی شدت پسندوں نے عورت کے ہر شرعی حق پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس میں خواتین کا گاڑی چلانا بھی شامل ہے۔ تاہم منگل کے روز سامنے آنے والا تاریخی فیصلہ اس جانب اشارہ ہے کہ اس فیصلے کو سعودی عرب کی سینئر علماء کمیٹی میں اکثر ارکان کی موافقت حاصل ہے۔

شاہی فرمان پر عمل درامد کے لیے متعلقہ ادارے اور حکام آئندہ سال جون تک تمام تر مطلوبہ امور اور انفرا اسٹرکچر کی فراہمی پر کام کریں گے جن میں ٹریفک سکیورٹی اینڈ سیفٹی اور ڈرائیونگ سکھانے والے ادارے شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں