قابض فوج کی فائرنگ، گولی کم سن فلسطینی کی کھوپڑی میں پیوست
تین سالہ یاسر اب عرام زندگی موت کی کشمکش میں
حال ہی میں وادی اردن کے شمالی علاقے میں قابض اسرائیلی فوج کی مشقوں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک کم سن فلسطینی بچہ شدید زخمی ہوگیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک گولی 3 سالہ یاسر ابو عرام کی کھوپڑی میں پیوست ہوگئی جس نے سر میں سوراخ کرڈالا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ نے رپورٹ میں اس لرزہ خیز واقعے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یاسر ابو عرام کو آٹھ جنوری کو گولی ماری گئی جس کےبعد اسے شدید زخمی حالت میں غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں رفیدیا اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ مسلسل زندگی اور موت کی کشمکش میں متبلا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اور صہیونی حکام دونوں ہی معصوم اور کم سن بچے کے علاج کے معاملے میں مجرمانہ لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں جس پر بچے کے والدین سراپا احتجاج ہیں۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ 8 جنوری کو اس وقت پیش آیا تھاجب اسرائیلی فوج نے مشقوں کے دوران وادی اردن میں فلسطینی بدوؤں کے خیموں پر فائرنگ کی تھی۔ فائرنگ کےدوران ایک خیمے میں سوئے تین سالہ یاسر ابو عرام کے سرمیں گولی لگی جس کے نتیجے میں اس کی کھوپڑی میں سوراخ ہوگیا۔
اسرائیل کے موقر عبرانی اخبار’ہارٹز‘ کی رپورٹ کے مطابق گولی نے بچے کے سرکے اوپروالے حصے کو پھاڑ ڈالا ہے۔ یہ گولی بچے کے سر کے اندر ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب گولی لگی تو بچہ سو رہا تھا۔ وہ گولی لگنے سے بیدار ہوا اور خون میں لت پت تھا اور تکلیف کی شدت سے اس نے رونا شروع کردیا۔
زخمی بچے کے دادا نے بتایا کہ رات کے قریبا ایک بجے اسرائیلی فوج نے قریبی علاقوں میں مشقوں کے دوران اندھا دھند فائرنگ کی۔ فائرنگ سے ان کا خیمہ بھی متاثر ہوا۔ اس نے اپنی بہو کے چیخنے اور چلانے کی آواز سنی۔ وہ بچے کو اٹھائے اس کا زخمی سر دکھا رہی تھی جس سے خون کا فوارا پھوٹ رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمین یقیں نہیں تھاکہ بچے کو گولی لگی ہے۔ بچہ جب بیدار ہوا تووہ ہوش میں نہیں تھا اور بار بار زمین پر گرجاتا۔ اگلے روز بچے نے خون کی قے کرنا شروع کردی۔ ہم اسے طوباس شہر کے ایک اسپتال لے گئے۔ وہاں ہمیں پتا چلا کہ بچے کے سرمیں زخم لگنے سے سوراخ ہوچکا ہے۔ تاہم ڈاکٹروں نے ہمیں گولی لگنے کا نہیں بتایا اور کہا کہ بچے کو سوئی چُبھی یا کوئی کنکر لگا ہے۔
معمولی مرہم پٹی کے بعد بھی بچے کا خون بند نہیں ہو رہا تھا۔ اسے دوبارہ اسپتال لے جایا گیا جہاں اس کے زخم کے ایکسرے کرائے گئے۔ ایکسرے سے پتا چلا کہ بچے سرمیں گولی لگی ہے اور وہ گولی کےسرکے اندر ہی ہے۔ اس کے بعد اسے رفیدیا اسپتال منتقل کردیا گیا۔
زخمی بچے کے دادا نے بتایا رفیدیا اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بچے کےسرسے گولی نکالنے کی ٹیکنالوجی اور دیگر طبی آلات نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بچے کا زخم خطرناک ہے جو اس کے لیے کسی بھی وقت جان لیوا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے فلسطینی انتظامیہ سے اپیل کی تھی کہ وہ زخمی بچے کو اسرائیل کے کسی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت فراہم کرے تاہم فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ بچے کی حالت تیزی کے ساتھ بگڑ رہی ہے اور وہ اس وقت انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے اپنا جرم تسلیم کیا ہے مگر بچے کے علاج معالجے میں ان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جا رہا ہے۔
-
القُدس فلسطین کا دارالحکومت ، ہمارا موقف پختہ اور واضح ہے : شاہ سلمان
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور فلسطینی ریاست کے صدر محمود ...
مشرق وسطی -
فلسطین نے امریکا میں اپنے مندوب کو واپس بلا لیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم ...
بين الاقوامى -
فلسطین کی جنگ 1948ء میں شریک سعودی سپاہی کی کچھ یادیں!
العتیبی نےکئی تک فلسطین کی جنگ لڑی، جیلیں کاٹیں، اذیتیں اٹھائیں
ایڈیٹر کی پسند