عدن میں کشیدگی پرعرب قیادت کے موقف کے حامی ہیں: امارات
’عدن میں بغاوت کی کوشش ایرانی سازشوں میں معاونت کے مترادف‘
متحدہ عرب امارات نے یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امارات عدن کے حوالے سے عرب قیادت کے موقف کی حامی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کےوزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا کہ عدم میں رونما ہونے والے واقعات پر سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد اور امارات کا موقف ایک ہے۔
’ٹوئٹر‘ پر پوسٹ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عدن میں کشیدگی اور فتنہ و فساد کو ہوا دینے والے کسی ہمدردی کے لائق نہیں۔
خیال رہے کہ عدن کے طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی یمن کے علاحدگی پسندوں کے مسلح گرپوں اور سیکیورٹی فورسز کےدرمیان تصادم میں کم سے کم 15 افراد ہلاک ہوگئےہیں۔
ادھر یمنی وزیراعظم احمد بن دغر نے فوری فائر بندی اور عسکری فورسز کو اپنی بیرکوں میں واپسی کی ہدایت دی ہے۔ بن دغر نے زور دیا کہ "آج صبح فریقین کی جانب سے قبضے میں لیے گئے ٹھکانوں کو غیر مشروط طور پر خالی کر دیا جائے"۔
انہوں نے عدن میں کشیدگی کی ذمہ داری جنوبی علاقوں کے علاحدگی پسنددوں پرعاید کی اور کہا کہ علاحدگی پسند یمن میں حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم بن دغر نے عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ علاحدگی پسندوں کی سازش ناکام بنانے کے لیے ان کے ساتھ تعاون کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدن میں بغاوت کی سازش ایران اور حوثیوں کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔
-
ادلے کا بدلا: اماراتی طیاروں کی تیونس آمد پر پابندی کیوں لگی؟
تیونسی خواتین کے امارات میں روک اور تلاشی سیکیورٹی بنیادوں پر کی گئی: انور قرقاش
بين الاقوامى -
امریکی صدر کے اعلان کے بعد عرب دنیا کے پاس محدود آپشن رہ گئے: انور قرقاش
متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ ...
بين الاقوامى -
سعودیہ پر حملوں کے بعد ایرانی میزائل خطرات کا انسداد ناگزیر ہوچکا
ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی روک تھام پہلی ترجیح: انور قرقاش
مشرق وسطی