یمن : الحدیدہ میں نئی صف بندی سے متعلق مشترکہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد حوثیوں کی جارحیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن میں حوثی ملیشیا نے مغربی شہر الحدیدہ میں اتصال کی خطوط پر اپنے نشانچیوں کے پھیلاؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ پیش الحدیدہ میں نئی صف بندی کی نگرانی سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے۔ اجلاس کی صدارت جنرل مائیکل لولزگارڈ نے کی۔

یمنی مزاحمت کے عکسری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اپنے نئے ٹھکانوں اور کمین گاہوں پر درجنوں ارکان بھیجے ہیں۔

علاوہ ازیں الحدیدہ شہر کے اندر اتصال کی خطوط پر واقع رہائشی عمارتوں اور اہم تنصیبات پر نشانچیوں کی نئی کمک تعینات کی ہے۔

دوسری جانب عسکری میڈیا کے کیمرے کی آنکھ نے جمعرات کے روز شارع صنعاء پر اتصال کی خطوط کے زندیک ایک تجارتی تنصیب میں حوثی ملیشیا کے نشانچیوں کی تعیناتی اور مشترکہ مزاحمت کے ٹھکانوں کی جانب فائرنگ کو محفوظ کر لیا۔

یہ تمام تر تعیناتی رواں ہفتے کے وسط میں اقوام متحدہ کی نگراں کمیٹی کے سہ فریقی مشترکہ اجلاس کے فیصلوں کے لیے کھلا چیلنج ہے۔ یہ اجلاس علاقائی پانی میں ایک بحری جہاز پر منعقد ہوا تھا۔ اجلاس میں طے پانے والے مرکزی نکات میں فائر بندی کو مستحکم کرنا اور سویڈن معاہدے کو سبوتاژ ہونے سے بچانا ہے۔

اس سلسلے میں الحدیدہ میں نئی صف بندی کی رابطہ کار کمیٹی میں یمنی حکومت کی ٹیم کے ایک رکن میجر جنرل صادق دوید کا کہنا ہے کہ مشترکہ اجلاس کے اختتام کو چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ حوثی ملیشیا نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتصال کی خطوط پر اپنے نشانچیوں کو تعینات کر دیا اور حیس اور التحیتا ضلعوں میں راکٹ بھیجنا شروع کر دیا۔

دوید نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ حوثی ملیشیا کی حرکات و سکنات پر گہری نظر ہے اور ان کی حماقتوں کے ساتھ پورے عزم اور دور اندیشی سے نمٹا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں