سعودی عرب میں معدنی دولت کا تخمینہ 5 کھرب ریال: وزارت صنعت

معدنیات سعودی عرب میں 5300 مقامات میں پائی جاتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں صنعت اور معدنی وسائل کی وزارت کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مملکت میں معدنی دولت 5,300 سے زائد مقامات پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کی مالیت کا تخمینہ تقریباً 5 کھرب ریال لگایا گیا ہے۔ ان میں متعدد معدنیات بھی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ وافر معدنیات میں سونا، چاندی، تانبا، زنک۔ فاسفیٹ، باکسائٹ، چونا پتھر، سیلیکا ریت، فیلڈ اسپار، گھروں کی بیرونی سجاوٹی چٹانیں،گرینائٹ اور دیگر معدنیات شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مملکت بہت سی معدنیات اور معدنی مصنوعات تیار کرتی ہے جو دھاتی معدنیات کے لیے قدر کی زنجیریں تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں لوہا، المونیم، تانبا، زنک اور سونا، نیز غیر دھاتی معدنی مصنوعات جیسے فاسفیٹ کھاد، سیمنٹ، گلاس، اور سیرامکس شامل ہیں۔

وزارت صنعت کا کہنا ہے کہ مملکت میں باکسائیٹ کی پیداوار تقریباً 4.9 ملین ٹن سالانہ ہے جس سے سالانہ تقریباً 10 لاکھ ٹن ایلومینیم تیار کیا جاتا ہے، اور درع العربی کے علاقے میں مملکت میں موجود کانوں سے تقریباً 409,000 اونس سونا پیدا ہوتا ہے۔ یہ پہاڑی علاقہ قیمتی دھاتوں اور بنیادی دھاتوں سے مالا مال ہے۔

رپورٹ کے مطابق مملکت سالانہ تقریباً 68 ہزار ٹن تانبے اور زنک کی مقدار پیدا کرتی ہے۔ تقریباً 24.6 ملین ٹن فاسفیٹ ایسک سالانہ حاصل کیا جاتا ہے۔اس سے سالانہ تقریباً 5.26 ملین ٹن فاسفیٹ کھاد تیار کی جاتی ہے۔ اس طرح سعودی عرب فاسفیٹ کھاد تیار کرنے والے دنیا کے پانچ ممالک میں شامل ہے۔اس کے علاوہ سعودہ عرب نے متعدد دیگر میٹالرجیکل صنعتوں کو ترقی دینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ کان کنی اور دھاتی صنعتوں کے شعبے کے لیے جامع حکمت عملی کے ذریعے متعین اہم خواہشات اور مقاصد صنعتی قدروں کی زنجیروں کی ترقی کے ذریعے ان معدنیات کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں