’فلسطینی سانپ‘ کے کاٹنے سے اردنی شہری کی موت، مگر یہ سانپ اتنا خطرناک کیوں ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اردن میں ایک نوجوان عمار عبیدات کل جمعرات کو 10 روز قبل شمالی اردن کی اربد گورنری میں "فلسطینی سانپ" کے کاٹنے کے بعد انتقال کر گیا۔

اردنی سانپوں کے ماہر ابراہیم بنی یاسین نے بتایا کہ نوجوان 10 دن تک ہسپتال میں رہا لیکن زہریلے "فلسطینی سانپ" کی زہر نے اسےمکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

فلسطینی سانپوں کے ماہر جمال عمواسی نے موت کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کی وجہ خطرناک "فلسطینی سانپ" ہے۔

فلسطینی سانپ
فلسطینی سانپ

اردن میں سانپ

پروفیسر ڈاکٹر بشیر جرار نے کہا کہ اردن میں سانپوں کی 36 اور تاریخی فلسطین کے پورے جغرافیہ میں 42 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں 9 انتہائی زہریلے سانپ، 9 کم زہریلے سانپ اور 24 غیر زہریلے سانپ ہیں۔

ڈاکٹر جرار نے جراش یونیورسٹی کی طرف سے شائع کردہ ایک تحقیق میں فلسطینی سانپ (Daboia Palestine) اردن اور فلسطین میں سب سے خطرناک زہریلا سانپ سمجھا جاتا ہے، اور اس کی خصوصیات اس کے بڑے سر، مضبوط جسم اور چھوٹی دم ہے۔

فلسطینی سانپ
فلسطینی سانپ

’فلسطینی سانپ‘ وسطی اور شمالی فلسطین، اردن، جنوبی لبنان اور اردن کے ساتھ شام کی مغربی سرحد پر ایک تنگ پٹی اور وادیوں اور نیم وادی علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ جیسے اردن میں اربد، عجلون، مادابا، سلط، جرش، وادی اردن اور دریائے اردن کے دونوں کناروں پر واقع علاقے میں دیکھاجاتا ہے۔

"فلسطینی سانپ" کو ان سانپوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جو جغرافیائی علاقے میں سانپ کے کاٹنے کے زیادہ تر واقعات کا سبب بنتا ہے۔

اس سانپ کے کاٹنے سے کاٹنے کی جگہ پر دردناک تکلیف ہوتا ہے۔ اس کے بعد سوجن ہوتی ہے، اور پھر کاٹنے کی جگہ سیاہ اور اس کے اندر السر بن جاتا ہے۔ اس سانپ کےحملے کا شکار شخص جان کی بازی ہارنے یا اعضا کے کٹوانے کی صورت میں متاثر ہوسکتا ہے۔

"فلسطینی سانپ" اردن میں سالانہ کم از کم پانچ اموات کا سبب بنتا ہے اور اس سے زیادہ فلسطینی علاقوں میں اس کے کاٹنے کے سالانہ 300 واقعات پیش آتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ گھوڑوں اور مویشیوں کو بھی کاٹتا ہے۔ ان کیسز کا اوسط تناسب 130 سے 150 تک ہے۔

ڈاکٹر جرار کے مطابق فلسطینی سانپ کے کاٹنے سے متاثرہونے والے شخص کا علاج بہت مہنگا ہے اور اس کے علاج پر 40,000 ڈالرتک لاگت آسکتی ہے۔ اس کے علاج کی سہولت زیادہ تر اسرائیلی ہسپتالوں میں دستیاب ہے۔

محقق جرار کے مطابق "فلسطینی سانپ" مشرق وسطیٰ کے 10 خطرناک سانپوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ خطرے کے اعتبار سے پہلےنمبر پر جھوٹے سینگ والے سانپ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں