سکولوں پر اسرائیلی حملے میں 30 افراد ہلاک: شہری دفاع ایجنسی غزہ
سکول حماس کی الفرقان بٹالین کے زیرِ استعمال تھے: اسرائیلی فوج کا الزام
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا ہے کہ اتوار کے روز غزہ شہر کے دو سکولوں پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ فوج نے بتایا کہ اس نے حماس کے کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا تھا۔
اس حملے سے غزہ میں ایسے سکولوں کی تعداد کم از کم 11 ہو گئی ہے جنہیں چھے جولائی سے اب تک نشانہ بنایا گیا ہے۔ غزہ میں حکام کی طرف سے پہلے دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں 150 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے اے ایف پی کو بتایا، "حسن سلامہ اور النصر سکولوں پر بمباری سے قتلِ عام کے شہداء کی تعداد 30 ہو گئی ہے۔ درجنوں زخمی بھی ہوئے۔"
بسال نے کہا کہ ہلاک شدگان اور زخمیوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان سکولوں میں جنگ میں بے گھر ہونے والے فلسطینی رہائش پذیر تھے۔
اسرائیلی فوج نے دو سکولوں کو نشانہ بنانے والے حملے کی تصدیق کی ہے۔
فوج نے ایک بیان میں کہا، "سکولوں کو حماس کی الفرقان بٹالین اپنے دہشت گردوں کے چھپنے کی جگہ اور کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کرتی تھی۔"
شہری دفاع ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز ایسے ہی ایک اسرائیلی حملے میں غزہ شہر میں ایک اور سکول کے احاطے کو نشانہ بنایا گیا جس میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج بارہا حماس پر شہری تنصیبات کو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کے طور پر استعمال کرنے یا اپنے کمانڈروں اور مزاحمت کاروں کو چھپانے کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ فلسطینی گروپ اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
-
غزہ میں انٹرنیشنل کچن کے ملازمین کا قتل، آسٹریلیا نے تحقیقات کے نتائج بتا دئیے
آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے جمعہ کو حکومت کی طرف سے غزہ کی پٹی میں مہینوں قبل ...
بين الاقوامى -
غزہ کے ایک سکول پر اسرائیلی بمباری سے 17 افراد جاں بحق
العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی کے عزہ سٹی میں ...
مشرق وسطی -
غزہ جنگ میں اموات 39,583 ہو گئیں: وزارتِ صحت
غزہ کی وزارتِ صحت نے اتوار کو بتایا کہ اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان جنگ کے ...
مشرق وسطی