بڑھتی ہوئی کشیدگی سے بچنے کی امید، لبنانی بڑی تعداد میں بیروت ہوائی اڈے پر پہنچ گئے

بعض لوگوں کو ملک چھوڑنے کی جلدی جبکہ دیگر معمولاتِ زندگی میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ملک چھوڑنے کی کوشش کرنے والے لوگ بڑی تعداد میں لبنان کے بیروت ہوائی اڈے پر امڈ آئے۔ انہیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ ایک بڑے پیمانے پر تنازعہ قریب آ رہا تھا۔

حزب اللہ کمانڈر فواد شکر اور حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد سے خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔

ہوائی اڈے پر روانگی کے ہال میں لبنانی نژاد خاندان جو گرمیوں میں اپنے آبائی وطن آئے ہوئے تھے، اپنی روانگی کی پروازوں پر سوار ہونے کے لیے قطار میں کھڑے تھے اور توقع سے پہلے واپس روانہ ہونے پر اداس تھے۔

فرانس، برطانیہ، اٹلی، ترکی اور دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کی تاکید کی ہے جب تک کمرشل پروازیں دستیاب ہوں۔

"یہ بہت افسوسناک بات ہے، اوہ خدا! صورتِ حال واقعی افسوسناک ہے۔ ہم ایک بحران سے نکلتے ہیں تو دوسرا بحران شروع ہو جاتا ہے۔" اٹلی میں رہنے والی ایک لبنانی شہری شیرین ملاح نے کہا جو اپنی والدہ سے ملنے لبنان آئی تھیں اور جلدی گھر جا رہی تھیں۔

امریکہ نے لبنان چھوڑنے کے خواہشمند اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ "کوئی بھی دستیاب ٹکٹ" بک کروا لیں جبکہ اقوامِ متحدہ نے اپنے سٹاف کے خاندانوں سے لبنان چھوڑ دینے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ سویڈن کے سفارت خانے نے اپنا سٹاف عارضی طور پر قبرص منتقل کر دیا ہے۔

لیکن لبنان میں کچھ دیگر لوگ زیادہ پرسکون نظر آئے۔ اسرائیل کی سرحد سے تقریباً 20 کلومیٹر (12 میل) کے فاصلے پر لبنان کے بندرگاہی شہر صور کی ریتلی ساحلی پٹی کے ساتھ بچے پانی کے چھینٹے اڑا رہے تھے جبکہ مزید جنوب میں ہونے والی اسرائیلی گولہ باری سے اٹھنے والے سیاہ دھوئیں کے بادلوں کے مرغولے ان کے عقب میں پہاڑیوں سے نظر آ رہے تھے۔

 چار اگست 2024 کو جنوبی لبنان میں لوگ صور کے ساحل پر لطف اندوز ہو رہے ہیں جبکہ پس منظر میں جنوبی لبنانی کے دیہات نظر آ رہے ہیں۔ (رائٹرز)
چار اگست 2024 کو جنوبی لبنان میں لوگ صور کے ساحل پر لطف اندوز ہو رہے ہیں جبکہ پس منظر میں جنوبی لبنانی کے دیہات نظر آ رہے ہیں۔ (رائٹرز)

صور کے رہائشی غالب بداوی نے کہا، "جہاں تک موجودہ صورتِ حال کا تعلق ہے تو جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، تمام لوگ ساحل سمندر پر ہیں، یہ زمین ہماری سرزمین ہے اور ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔"

ہسپتالوں کو ہنگامی طبی امداد وصول

جنوبی لبنان جہاں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان زیادہ تر گولہ باری کے تبادلے ہوئے ہیں، وہاں کے ہسپتال برسوں سے جاری معاشی بدحالی کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہیں اور گزشتہ 10 ماہ کے دوران زخمی مریضوں سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

پیر کے روز عالمی ادارۂ صحت نے لبنان کی وزارتِ صحت کو 32 ٹن طبی سامان پہنچایا جس میں ممکنہ جنگ کے زخمیوں کے علاج کے لیے کم از کم 1,000 ٹراما کٹس بھی شامل ہیں۔

ہوائی اڈے کی لینڈنگ پٹی پر جہاں امداد پہنچی، وزیرِ صحت فراس ابیاد نے نامہ نگاروں کو بتایا، "مقصد یہ ہے کہ یہ سامان اور ادویات مختلف ہسپتالوں اور لبنان میں صحت کے شعبے تک پہنچائی جائیں بالخصوص وہ جگہیں جنہیں سب سے زیادہ کشیدگی کا سامنا ہے تاکہ ہم کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہو سکیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں