تہران میں ایک حملے کا نشانہ بنائے گئے حماس سربراہ کی ہلاکت سے خطے میں وسیع تر تنازعے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ بلاشبہ اس اہم قتل کا الزام اسرائیل پر ہی آیا ہے۔ تاہم اس بڑے واقعے کے ساتھ ہی غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی کوششیں عملاً سائیڈ لائن ہو گئی ہیں۔ یقیناً حماس سربراہ کے قتل کے منصوبہ سازوں نے اس منصوبے کی شروعات سے تکمیل تک یہ حقیقت سمجھ لی ہوگی کہ مذاکرات بھی اس حملے کی زد میں آجائیں گے۔
حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل پر غیر معمولی حملے نے غزہ میں تباہ کن جوابی کارروائی کو جنم دیا تھا ، تقریباً اس آغاز کے ساتھ ہی قطر نے فلسطینی عسکریت پسند گروپ کے ساتھ ایک ثالث کے طور پر کام شروع کر دیا تھا۔ قطر کے پاس یہ سہولت بھی تھی کہ وہ حماس سربراہ اسماعیل ھنیہ کا میزبان ملک بھی تھا۔
اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی اور اس غزہ جنگ کو روکنے کی قرارداد کو تین بار سلامتی کونسل میں ویٹو کرنے والے امریکہ اور مصر کے علاوہ اسرائیل کے ساتھ، قطر نے کئی مہینوں تک پس پردہ مذاکرات کی قیادت کی۔ مذاکرات کا مقصد ایک اضافی جنگ بندی ممکن بنانا تھی۔
پچھلے سال نومبر میں ایک ہفتے کے وقفے کے بعد جب فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں متعدد اسرائیلی اور غیر ملکی یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تو یہ ان مذاکرات کا ہی نتیجہ تھا۔
لیکن تہران میں ھنیہ کی ہلاکت کے چند گھنٹوں بعد، قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے مذاکرات کی کامیابی پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ شیخ محمد بن عبدالرحمان کا کہنا تھا 'جب ایک فریق دوسرے فریق کے مذاکرات کار کو ہی قتل کر دے تو ثالثی کیونکر کامیاب ہو سکتی ہے؟
ھنیہ قتل کے بعد مذاکرات کہاں کھڑے ہیں؟
حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل سے پہلے بھی حماس نے نیتن یاہو پر غزہ میں ممکنہ جنگ بندی میں تاخیر کرنے کے لیے حربوں کا الزام لگایا تھا۔ حماس اسرائیل کو اس کے سابقہ موقف سے پیچھنے ہٹنے کی بنیاد پر تاخیری حربوں کا الزام لگا رہی تھی۔
یہ معاملہ مصری، قطری اور امریکی حکام کے درمیان روم میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا تھا۔ حماس کا موقف تھا کہ اسرائیل معاہدے کے لیے نئی شرائط پیش کر کے جنگ بندی کو دور کر رہا ہے۔ شاید ھنیہ کے قتل کے بعد یہ بات اور بھی با معنی لگی ہے۔
واضح رہے یہ مذاکراتی عمل اور ملاقاتیں 31 مئی کو امریکی صدر جوبائیڈن کے پیش کردہ جنگ بندی فارمولے کے حوالے سے جاری تھے۔ کہ مرحلہ وار طریقے سے مکمل جنگ بندی تک پہنچنا مقصود تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس جنگ بندی منصوبے کی تائید کر رکھی تھی۔
حماس کی طرف سے اسرائیلی وزیر اعظم پرمذاکرات میں روڑے اٹکانے کے الزام کے بعد نیتن یاہو کے دفتر نے بھی جوابی بیان دیا حماس کی قیادت ہی ایک معاہدے کو روک رہی تھی ۔ گویا اسرائیل نے اپنے مسودے کے خاکہ میں تبدیلی کرنے کی تردید کی تھی۔
ایک امریکی ویب سائٹ نے دو اسرائیلی حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز قاہرہ میں اسرائیلی اور مصری وفود کے درمیان ہونے والی بات چیت بغیر کسی پیش رفت کے تعطل کا شکار ہو گئی ، جو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوئی۔ اہم بات یہ تھی کہ اس مذاکراتی عمل میں قطر موجود نہیں تھا۔
عسکری تجزیہ کار اور سیکورٹی امور کے ماہر اینڈریاس کریگ کا اس بارے میں کہنا ہے ' ھنیہ کے قتل سے پہلے، گزشتہ چند دنوں اور ہفتوں میں، اسرائیلی حکومت، خاص طور پر نیتن یاہو نے ثالثوں کو اپنی طرف سے کوئی اعتماد نہیں دیا تھا۔
انہوں نے لبنانی دارالحکومت میں منگل کو حزب اللہ کے فوجی سربراہ کے اسرائیلی قتل کا ذکر کیا اور کہا ھنیہ کے قتل اور بیروت میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی میں مخلصانہ دلچسپی رکھتا ہے۔'
کریگ نےمزید کہا ' ایک ہی وقت میں، ان دو سینیئر رہنماؤں اور دیگر سینئر عسکریت پسندوں کی ہلاکتیں مذاکرات کی کامیابی کا باب نہیں نیتن یاہو کے لیےایک فتح کی کتاب کا باعث بن رہے تھے، گویا معاملہ جنگ بندی کے برعکس جاری تھا۔'
جنگ بندی اور ھنیہ کردار؟
انہیں 2017 میں حماس کا سیاسی سربراہ منتخب کیا گیا تھا اور وہ بین الاقوامی سطح پر فلسطینی تحریک کے کلیدی ذمہ دار تھے۔ سات اکتوبر کے بعد مسلسل قطر میں ثالثوں کے ساتھ بات چیت میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔
'انٹرنیشنل کرائسز گروپ' کے مشرق وسطیٰ کے لیے پروگرام کے ڈائریکٹر جوسٹ ہلٹرمین کے مطابق 'یقیناً اسماعیل ھنیہ چیف مذاکرات کار تھے لیکن وہ اپنے اردگرد موجود ہر فرد کے اتفاق کے بغیر اکیلے کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے تھے۔'
کریگ نے اسماعیل ھنیہ کے بارے میں کہا ' وہ ثالثی کے عمل کے دوران کچھ مشکلات کو کم کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ وہ اس سلسلے میں یقینی طور پر ایک اثاثہ ہو سکتے تھے۔ مگر یہ اثاثہ تہران میں ضائع ہو گیا ہے۔ تاہم یہ بات مکمل طور پر نہیں کہہ سکتے کہ ان کے قتل سے مذاکرات کا راستہ بالکل بند ہو گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ دیر کے لیے ایسا ہو مگر پھر ٹھیک ہو جائے گا۔'
-
غزہ میں ورلڈ کچن عملے پر حملہ؛ آسٹریلوی تحقیقات پر اسرائیل چراغ پا
اسرائیل نے غزہ میں ورلڈ سینٹرل کچن سے وابستہ سات امدادی کارکنوں کی ہلاکت کے بارے ...
مشرق وسطی -
مصر سے ملحق غزہ کے صلاح الدین محور سے درجنوں سرنگیں ملی ہیں: اسرائیل کا دعویٰ
جنگ بندی پر بات چیت کے لیے اسرائیلی اور فلسطینی وفود مصر میں موجود نہیں: ذرائع
مشرق وسطی -
سکولوں پر اسرائیلی حملے میں 30 افراد ہلاک: شہری دفاع ایجنسی غزہ
سکول حماس کی الفرقان بٹالین کے زیرِ استعمال تھے: اسرائیلی فوج کا الزام
مشرق وسطی