اسرائیل: یروشلم کے جنوب میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کا بڑا منصوبہ منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یونیسکو کی عالمی ورثے میں شامل کی گئی ان تاریخی اور قدیمی سائٹس کی جگہوں پر یہودی بستیوں کی تعمیر شروع کرنے کے نئے منصوبے کی منطوری دی ہے۔ یہ اعلان اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بذالیل سموٹریچ نے بدھ کے روز کیا ہے۔

انتہا پسندی کی وجہ سے مشہور وزیر سموٹریچ شہری امور اور وزارت دفاع سے متعلق امور کے بھی نگران ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے دفتر نے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے لیے کام مکمل کر لیا اور اس منصوبے کو پبلش بھی کر دیا ہے۔ یہ نئی بستیاں گوش ایتی زون میں تعمیر کی جائیں گی۔ جہاں پہلے بھی یروشلم کے جنوب میں یہودی بستیوں کا ایک بلاک ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کے اسرائیلی قبضے اور ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیے جانے کے بعد یہ اسرائیلی حکومت کا بڑا اعلان ہے۔ اسرائیل نے ان علاقوں پر 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے۔ لیکن عرب ملک اسرائیل سے قبضہ چھڑانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

سموٹریچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا ہے کہ 'کوئی اسرائیل یا یہود مخالف فیصلہ یہودی بستیوں کے قیام کو روک نہیں سکتا ہے۔ ہم فلسطینی ریاست کے قیام کے خطرناک منصوبے کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔'

اسرائیل کے اس نئے منصوبے کے خلاف ' اب امن ' نامی انسانی حقوق کی تنظیم نے احتجاج کرتے ہوئے اسرائیلی منصوبے کی مذمت کی ہے۔ ' اب امن' نے اسرائیلی منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ مقبوضہ علاقوں پر تھوک کے حساب سے ناجائز یہودی بستیاں بنانے کا منصوبہ ہے۔

واضح رہے سات اکتوبر سے اسرائیل نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سرگرمیاں تیز کر رکھی ہیں، اب انہیں مزید بڑھاوا ملے گا۔ پچھلے برسوں میں اسرائیل نے درجنوں یہودی بستیاں تعمیر کر کے لاکھوں غیر ملکوں سے لائے گئے یہودیوں کو یہاں آباد کیا ہے۔ یروشلم کے علاوہ یہ تعداد 49000 یہودیوں کی ہے۔

اسرائیل کے انتہا پسند وزیر بطور خاص یہودی بستیوں اور فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔ ایک روز پہلے ایتماربین گویر نے مسجد اقصیٰ پر ہزاروں یہودی آباد کاروں کے ساتھ دھاوا بول دیا تھا۔

نہل ہلیٹز یہودی بستی جس کی تعمیر کی ابتدائی منظوری جون میں دی گئی تھی۔ اسرائیل اسے یہودی کلچر کے حوالے سے اہم سمجھتا ہے۔ 'اب امن' کے مطابق' یہ اسرائیلی تعمیرات اور اقدامات فلسطینیوں کے لیے گنجائش کم کرتے آرہے ہیں۔'

یورپی یونین کی ایک رپورٹ کےمطابق اسرائیل نے پچھلے سال نئے یہودیوں کے لیے 12349 گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا تھا۔ فلسطینیوں کا کہنا کہ یہودی بستیوں کے یہ نئے نئے منصوبے فلسطینی ریاست کے قیام میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے ہیں اور اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں