وزیر اعظم پاکستان : فلسطینی سرزمین پریہودی بستیوں کےخلاف عالمی عدالت کےفیصلےکاخیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں قائم کی گئی اسرائیلی یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دینے کا خیر مقدم کیا ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف نے یہ ' ورڈکٹ' جمعہ کے روز جاری کیا ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2022 میں اس سب سے بڑی عالمی عدالت سے درخواست کی تھی۔

اس سلسے میں بین الاقوامی قانون کے ماہرین کی رائے اور ایک سیر حاصل جائزے کے بعد 19 جولائی کو یہ 'ورڈکٹ' جاری کیا ہے۔ کہ اسرائیل میں مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں دوسرے ملکوں سے یہودیوں کو لاکر آباد کرنے کے لیے جو بستیاں قائم کر رکھی ہیں، وہ بین الاوامی قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔

2022 سے لے کر 'ورڈکٹ' آنے سے پہلے تک ہونے والی بین الاقوامی عدالت انصاف کی سماعتوں میں 52 مختلف ملکوں نے بھی یہودی بستیوں اور اسرائیلی قبضے کے حوالے سے اپنی اپنی رائے دی ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے ان سب آراء کو پیش نظر رکھ کر یہ حکم جاری کیا ہے کہ اسرائیل غیر قانونی اقدامات کا مرتکب ہوا ہے۔

یاد رہے اسرائیل نے ان فلسطینی علاقوں میں 1967 کی مشرق وسطیٰ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔ اور اس کے بعد اس نے فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کو لاکر آباد کرنے کی منظم حکمت عملی اختیار کر لی جس کے تحت اب تک مغربی کنارے میں لاکھوں یہودیوں کو آباد کر دیا ہے، جنہیں عرف عام میں یہودی آباد کار کہا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ سارا علاقہ فلسطینی ریاست کا حصہ ہے لیکن اسرائیل اس علاقے کو فلسطینی ریاست میں شامل کرنے سے درکنار ، سرے سے فلسطینی ریاست کے قائم کیے جانے کا ہی مخالف ہے۔ جیسا کہ جمعرات کے روز اسرائیلی پارلیمان نے اس بارے میں ایک قرارداد بھی منظور کی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر بین الاقوامی عدالت انصاف کے 'ورڈکٹ' کا خیر مقدم کرتے ہوئے لکھا ہے 'اسرائیل کو فلسطینی ریاست پر قبضے اور غیر قانونی یہودی آباد کاروں کی بستیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ یہ فیصلہ بھی فلسطینی عوام کی جدوجہد کے جائز ہونے کو ثابت کرتا ہے۔'

شہباز شریف نے مزید لکھا 'میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ دو ریاستی حل سے متعقلہ قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ ہمیں فخر ہے کہ فلسطینی کاز کے لیے پاکستان نے اپنی غیرمتزلزل وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مقدمے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں