یحییٰ السنوار کہاں ہے؟ہم اسے ہر جگہ تلاش کر رہے ہیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

غزہ کی پٹی میں حماس کے رہ نما یحییٰ السنوار کے ٹھکانے کا راز اسرائیل کے لیے مسلسل ایک معمہ بنا ہوا ہے اور گیارہ ماہ سے جاری لڑائی میں اس کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔

موجود بھی ہے؛ مگر گم

’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق السنوار کی گرفتاری یا قتل سے بچنے کی صلاحیت نے اسرائیل کو جنگ میں فوجی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام بنا رکھا ہے جو اس نے سات اکتوبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کے بعد شروع کی تھی۔

نئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ السنوار غزہ پر اسرائیلی جنگ سے پہلے بھرپور موجودگی کا لطف اٹھا چکے تھے۔

رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ جنوری میں اسرائیلی اور امریکی حکام نے سوچا کہ ان کے پاس دنیا کے انتہائی مطلوب افراد میں سے ایک کو تلاش کرنے کا موقع ہے، جب اسرائیلی کمانڈوز نے 31 جنوری کو جنوبی غزہ کی پٹی میں زیر زمین ایک پیچیدہ کمپلیکس پر حملہ کیا۔ انٹیلی جنس معلومات تھیں حماس کے رہ نما یحییٰ السنوار وہاں چھپے ہوئے ہیں۔

یہ پتہ چلتا ہے کہ السنوار پہلے سے ہی وہاں تھے لیکن انہوں نے کچھ دن پہلے خان یونس شہر کے نیچے بنکر چھوڑ دیا، اور اپنے پیچھے دستاویزات اور اسرائیلی شیکل کی بھاری رقم جس کی مالیت ایک ملین ڈالر کے برابر تھی کو وہاں چھوڑ دیا تھا۔

تلاش جاری رہی اور آج تک السنوار کے ٹھکانے کی تلاش جاری ہے۔

اسرائیل میں سات اکتوبر کے حملوں کے بعد سے السنوار کو تلاش کر رہا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ السنوار نے اس کی منصوبہ بندی کی تھی۔ مگر السنوار اسرائیل کے لیے ایک چھلاوا بن گیا ہے جو کبھی بھی عوام میں نظر نہیں آتا۔ شاذ ونادر ہی اپنے ساتھیوں کو پیغامات بھیجتا ہے اور اپنے ٹھکانے کے بارے میں کچھ اشارے دیتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ السنوار نے کافی عرصہ قبل رابطے کے الیکٹرانک مواصلاتی آلات کو ترک کر دیا تھا اور وہ اب تک ایک پیچیدہ انٹیلی جنس نیٹ ورک سے بچنے میں کامیاب رہے ہیں۔

یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انسانی پیغام رساں کے نیٹ ورک کے ذریعے تنظیم کی قیادت کرتا ہے اس سے وہ رابطے میں رہتا ہے۔

تاہم یہ صورت حال ایک معمہ بنی ہوئی ہے جس نے اسرائیلیوں کو حیران کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہی طریقہ کارہے جو ماضی میں حماس کے رہ نما استعمال کرتے تھے لیکن السنوار کی صورت حال امریکی اور اسرائیلی حکام کے لیے زیادہ پیچیدہ اور مایوس کن ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیل اور امریکہ میں 20 سے زائد اہلکاروں کے انٹرویوز سے یہ بات سامنے آئی کہ دونوں ممالک نے السنوار کی تلاش کے لیے بے پناہ وسائل خرچ کیے ہیں۔

حکام نے اسرائیلی انٹرنل سکیورٹی سروس (شین بیت) کے ہیڈ کوارٹر کے اندر ایک خصوصی یونٹ قائم کیا ہے اور امریکی جاسوس ایجنسیوں کو السنوار کے رابطوں کو روکنے کا کام سونپا گیا ہے۔

امریکہ نے اسرائیل کو اور حماس کے دیگر رہ نماؤں کا تعاقب کرنے میں مدد کے لیے زمینی سطح پر راڈار بھی فراہم کیے۔

رپورٹ کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ السنوار تک پہنچنے کا جنگ پر بڑا اثر پڑے گا، کیونکہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایک بڑی فوجی فتح کا دعویٰ کرنے کا راستہ ملے گا اور شاید اس کے بعد وہ غزہ میں جنگ بندی کے تیار ہوجائیں۔

فیصلے کا قریبی رابطہ

قابل ذکر ہے کہ 2017ء میں حماس نے السنوار کو غزہ کی پٹی میں اپنا لیڈر مقرر کیا تھا۔

تحریک کے اندر فیصلہ سازی کے عمل پر ان کے نمایاں اثر ورسوخ کے باوجود السنوار نے حماس کا مطالعہ کرنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ میں حماس کے سیاسی اور عسکری رہ نماؤں کے ایک گروپ کے ساتھ قریبی رابطہ کاری میں اپنی پوزیشنیں تشکیل دیں۔

ساتھیوں کے حلقے میں مارچ میں قتل ہونے والے حماس کے ملٹری کمانڈر مروان عیسیٰ غزہ میں حماس کے سیاسی بیورو کے رکن روحی مشتہی، عسکری ونگ کے ایک سینیر کمانڈر عزالدین الحداد، یحییٰ السنوار کے بھائی محمد السنوارملٹری ونگ کے سربراہ محمد ضیف اور ابراہیم المدہون کے السنوار سے قریبی تعلقات تھے مگر وہ سارے مارے مارے جا چکےہیں۔

لیکن السنوار کا مشیروں کا نیٹ ورک مسلسل سکڑتا جا رہا تھا کیونکہ اسرائیل نے کچھ سینیر رہ نماؤں کو قتل کر دیا، کچھ کو گرفتار کر لیا ہے۔ دیگر غزہ سے باہر تھے جب جنگ شروع ہوئی اور اس کے بعد سے وہ واپس نہیں آ سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں