شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں امریکہ نے اتوار کے روز بمباری کر کے 37 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ امریکی فورسز کا کہنا ہے کہ ان ہلاک کیے گئے افراد کا تعلق انتہا پسند گروپ داعش کے ساتھ تھا۔
واضح رہے کہ شام میں امریکی فوجی اڈے پر 900 کی تعداد میں امریکی فوجی موجود ہیں۔ جن کا دعویٰ ہے کہ داعش کے خاتمے کے لیے وہ شام میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
امریکی سنٹرل کمانڈ نے بمباری کے بعد جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ان 37 عسکریت پسندوں میں دو سینیئر کمانڈر بھی شامل تھے۔
سینٹ کام کے مطابق منگل کے روز القاعدہ سے جڑے ایک سینیئر عسکریت پسند سمیت 9 عسکریت پسندوں کو شام کے شمال مغربی علاقے میں روکا تھا۔ سینٹ کام کے مطابق القاعدہ کا سینیئر کمانڈر فوجی آپریشنز کا انچارج تھا۔
وسطی شام کے دور دراز علاقے میں جس کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا تقریباً دو ہفتے قبل وہاں وسیع پیمانے پر بمباری کی گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں 28 عسکریت پسند مارے گئے۔ جن میں 4 شامی رہنما بھی شامل تھے۔
سینٹ کام کے جاری کردہ بیان کے مطابق فضائی حملے کے نتیجے میں داعش کی عسکری کارروائیاں کرنے کی صلاحیت پر اثر پڑے گا۔ اس حملے کے بعد امریکی مفادات پر حملوں میں کمی آنے کے ساتھ ساتھ امریکی شراکت داروں اور اتحادیوں کے خلاف عسکری کارروائیوں میں بھی کمی آئے گی۔
-
سعودی عرب اور عالمی ادارہ صحت کے اشتراک سے شام میں زلزلہ متاثرین کے لیے طبی امداد
سعودی عرب کے سرکاری فلاحی ادارے ’شاہ سلمان ریلیف مرکز نے شمال مغربی شام میں زلزلے ...
مشرق وسطی -
شام میں حماس سربراہ کو قتل کر دیا ہے: اسرائیل
اسرائیلی فوج کس نے ان دنوں بیک وقت اڑوس پڑوس میں کئی اطراف جنگ پھیلا رکھی ہے دعوی ...
مشرق وسطی -
امریکہ نصراللہ کے قتل میں شامل ہے اور ہم ایک وسیع جنگ کی تیاری کر رہے ہیں:ایران
اتوار کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر لبنانی حزب اللہ کے رہ نما حسن ...
مشرق وسطی