اسرائیل نے لبنان میں اپنی جنگ شروع کرنے کے ساتھ ہی لبنانی دارالحکومت بیروت میں بدترین بمباری کے لیے امریکی بموں کا استعمال کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ جمعرات کے روز اسرائیل نے حزب اللہ کے ایک اہم رہنما کو بیروت میں قتل کرنے کے لیے بدترین بمباری کا سہارا لیا اور اس دوران امریکی ساختہ بم استعمال کیے۔
اس بمباری میں حزب اللہ رہنما کو قتل کرنے میں اسرائیلی فوج کامیاب نہ ہو سکی ۔ البتہ 20 سے زائد لبنانی شہریوں کو قتل اور 117 کو زخمی کرنے میں کامیاب رہی۔
برطانوی اخبار 'گارڈین' کے مطابق بیروت میں استعمال ہونے والا خوفناک بم امریکی ساختہ ہے۔ جسے 'جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن' نے بنایا ہے۔
'گارڈین' کے علاوہ 'ہیومن رائٹس واچ' کے 'کرائسز ، کنفلیکٹ اینڈ آرمز ڈویژن' نے بھی اپنی رپورٹ میں بیان کیا ہے۔ جبکہ امریکی فوج کے بموں کو ڈیل کرنے والے ایک سابق تکنیک کار سے بھی مدد لی گئی ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے رہنما وفیق صفا جو سیاسی امور کو اعلیٰ ترین سطح پر دیکھتے ہیں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ جو لبنانی سیکیورٹی کے ساتھ رابطہ کاری کے علاوہ غیرملکی سفارتکاروں کے ساتھ رابطہ کاری کا کام کرتا تھا۔ تاہم حزب اللہ نے کہا ہے کہ وفیق صفا حملے میں بچ گیا ہے اور وہ محفوظ ہے اور حزب اللہ کا کوئی بھی رکن اس حملے کے وقت بلڈنگ میں موجود نہیں تھا۔ تاہم بعض دیگر اطلاعات کے مطابق وفیق صفا شدید زخمی ہوا ہے۔
بتایا جا رہا ہے اسرائیل کا یہ حملہ شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے غیرمعمولی طور پر ہلاکت انگیز رہا کیونکہ یہ 8 اکتوبر 2023 سے جاری حزب اللہ اسرائیل تصادم میں اب تک کے بدترین حملوں میں سے تھا۔ جس کے نتیجے میں 22 شہری ہلاک اور 117 زخمی ہوئے ہیں۔
'گارڈین' کی رپورٹ کے مطابق 2006 میں ہونے والی اسرائیل لبنان جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی ساختہ بموں کے لبنان پر اسرائیلی حملے میں استعمال ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
اسی ہفتے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو غزہ میں شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ میں اب تک جوبائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کو 17.9 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ فراہم کیا ہے۔
تاہم یہ رپورٹ اس سے قبل شائع ہوئی ہے کہ جب پینٹاگون نے اضافی ٹینک اور اسلحہ مشرق وسطیٰ منتقل کرنے کا گزشتہ ہفتے اعلان کیا ہے۔ نیز اسرائیل کو اسلحہ فراہمی سے متعلق یہ رپورٹ لبنان میں شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ سے بھی پہلے کی ہے۔ جن کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ اگر یہ اربوں مالیت کا نہیں تو کم از کم لاکھوں مالیت کا اسلحہ ضرور ہے۔
خیال رہے اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس پر بھی حمہل کیا ہے ۔ جس کے نتیجے میں فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ لبنانی فوج نے کہا ہے کہ ایک اور اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو لبنانی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
'العربیہ' نے پینٹاگون سے اسرائیلی حملے کے سلسلے میں رابطہ کیا تو پریس سیکرٹری پینٹاگون نے کہا 'لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فورس پر اسرائیلی حملہ تشویش ناک ہے۔ تاہم امریکہ اب بھی سمجھتا ہے کہ اسرائیل نے لبنان میں محدود کارروائیاں کی ہیں۔'
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ڈپو تلاش کر رہا ہے۔ واشنگٹن نے اسرائیل کے لبنان پر زمینی حملے کی اس کے باوجود حمایت کی ہے کہ اس نے یہ کہا تھا کہ وہ لبنان پر زمینی یا کسی بھی قسم کے حملے خلاف ہے۔
-
غزہ اور لبنان جنگ ہتھیاروں کی سپلائی بند ہونے کے ساتھ ختم ہو گی: ماکروں
یورپی یونین نے غزہ اور لبنان دونوں علاقوں میں فوری جنگ بندی کے اپنے مطالبے کا ...
بين الاقوامى -
اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد چاہتے ہیں: لبنانی وزیرِ اعظم
لبنان کے وزیرِ اعظم نجیب میقاتی نے جمعے کے روز اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ ...
مشرق وسطی -
مداخلت کے مطالبات کے باوجود خامنہ ای لبنان میں فوج کیوں نہیں بھیجتے؟
پچھلے ماہ 27 ستمبر کو لبنان میں قدس فورس کے کمانڈر عباس نیلفروشان کے ساتھ حزب اللہ ...
مشرق وسطی