اسرائیلی فوج کی بمباری سےبھوک و قحط نےماہی گیروں کو بےخوف کر دیا ،جال لےکرساحل پر پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی بمباری سے بھوک و قحط کی یلغار کے باوجود غزہ کے ماہی گیروں نے اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے ساحلی پٹی پر جمع ہو کر مچھلیاں پکڑنے کی کوششیں تمام تر خطرات کے باوجود شروع کر دی ہیں۔

ایک سال اور تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے، اسرائیلی فوج نے ان فلسطینی ملاحوں کے لیے سمندر میں جا کر مچھلیاں پکڑنے کو عملاً ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ جس سے سینکڑوں ماہی گیر بھی اپنے روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس محرومی کی وجہ سے ان کے اپنے خاندانوں کی گزر بسر بھی ناممکن ہو چکی ہے۔

اس لیے ماہی گیروں نے آہستہ آہستہ اب دوبارہ سے ساحلی پٹی پر مچھلیاں پکڑنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور وہ اپنے جال لے کر ساحل پر موجود ہیں۔ تاہم ہر وقت خطرہ رہتا ہے کہ اسرائیلی فوج کی بمباری کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔

خان یونس کے رہنے والے ماہی گیر 71 سالہ ابراہیم غریب اور 24 سالہ وسیم المصری بےگھر ہونے کے بعد عارضی پناہ گاہوں سے نکل کر ساحل کے سامنے مچھلیاں پکڑنے کی کوشش کر رہے ہی۔

ابراہیم غریب کا کہنا ہے کہ اب ہمیں کوئی امداد نہیں مل رہی۔ شروع میں انسانی بنیادوں پر کچھ مل جاتا تھا لیکن اب وہ بھی میسر نہیں ہے۔ اس لیے ہم تمام خطروں کی پروا کیے بغیر یہاں پہنچے ہیں۔

غزہ کے لوگوں کے لیے ماہی گیری کا پیشہ ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ لیکن بمباری کی وجہ سے اس پیشے کو جاری رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔

المصری نے اس بارے میں کہا کہ ہم پناہ گزین کیمپوں میں بیٹھ کر اپنی زندگیوں کو مشکل میں نہیں ڈال سکتے کہ اسرائیلی فوج ہر جگہ ہی فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ حتیٰ کہ ماہی گیروں کو ساحل سمنددر پر بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم مچھلیاں پکڑیں گے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے ماہی گیروں کی اس حالت کے بارے میں فوری تبصرے سے گریز کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں