اسرائیلی افواج بفرزون میں داخل، شام کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ شام کی گولان کی پہاڑیاں جو سطح مرتفع الجلیل اور جھیل طبریا کے قریب ہیں ہمیشہ کے لیے اسرائیلی بن جائیں گی اور ان کی افواج گولان کے مقبوضہ حصے سے ملحقہ بفر زون میں گھس رہی ہیں۔ دریں اثنا سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے منگل کو العربیہ کے ساتھ ایک گفتگو میں کہا ہے کہ اسرائیلی افواج دمشق کے دیہی علاقوں میں گھس گئی ہیں۔ رامی عبد الرحمن نے یہ بھی وضاحت کی کہ اسرائیلی افواج القنیطرہ کو نظرانداز کرتے ہوئے دمشق کے دیہی علاقوں کے مضافات تک پہنچ گئی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق تین سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج کی دراندازی دمشق کے جنوب مغرب میں تقریباً 25 کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی افواج جنوبی دمشق کے دیہی علاقوں میں واقع شہر قطنا میں 10 کلومیٹر تک گھس گئی ہیں۔ یہ شہر شام سے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کو الگ کرنے والے غیر فوجی زون کے مشرق میں شام کی سرحد کے دس کلومیٹر اندر واقع ہے۔ دوسری جانب العربیہ ذرائع نے واضح کیا ہے کہ قطنا کے علاقے میں اسرائیلی افواج کے داخلے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

اسرائیل کی تردید

دریں اثنا اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے اس بات کی تردید کی ہے کہ دراندازی دمشق سے 25 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گئی ہے۔ ہگاری نے زور دیا کہ اسرائیلی افواج بفر زون سے تجاوز نہیں کر رہیں۔ لیکن انہوں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل بفر زون میں داخل ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ اس نے شام اور اسرائیلی فریقوں کے درمیان 1974 میں طے پانے والے علیحدگی کے معاہدے کو ختم کر دیا اور اسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔

معاہدہ کیا ہے؟

اکتوبر 1973 کی جنگ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان فائر بندی کرنے والے اس معاہدے پر 31 مئی 1974 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں دستخط کیے گئے تھے تاکہ شامی اور اسرائیلی افواج کو دونوں ملکوں کی درمیانی سرحد پر مقبوضہ گولان سے ملحقہ علاقے میں الگ کیا جا سکے۔

جبل الشیخ سے اردن کی سرحد تک

یہ معاہدہ، جسے "ڈس انگیجمنٹ معاہدہ" کہا جاتا ہے، سرحد کے دونوں طرف دونوں فریقوں کے درمیان بفر زون کے قیام کا بھی حوالہ دیتا ہے۔ یہ بفر زون سرحد کے ساتھ 75 کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا۔ جبل الشیخ سے لے کر اردن کی سرحد تک اسے نو مینز لینڈ کہا جاتا تھا۔ فوجیوں کے اس میں دونوں طرف سے داخلے پر پابندی تھی۔ اقوام متحدہ کی فورس یوندوف ( UNDOF) نے ’’علیحدگی معاہدے‘‘ کی نگرانی کا کام سنبھالا تھا۔

ایک باخبر سکیورٹی ذریعے نے پہلے العربیہ کو تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی فوج نے شامی فوج کے پیچھے ہٹنے کے بعد گزشتہ اتوار 8 دسمبر کو جبل الشیخ کے مقام پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اقوام متحدہ نے اس اسرائیلی دراندازی کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ 50 سال قبل طے پانے والے اقوام متحدہ کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں