کمرے کے ایئرکنڈیشن کی خرابی اوربم دھماکہ، تہران میں ھنیہ کے قتل کی نئی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی چینل 12 نے گذشتہ جولائی کے آخر میں تہران میں حماس کے رہ نما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بارے میں نئی معلومات کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ان کے کمرے میں رکھے گئے بم سے قتل کیا گیا۔ یہ بم اس طرح نصب کیا گیا تھا کہ اس سے کسی اورکی جان نہ جائے۔ اس بم کا نشانہ اسماعیل ھنیہ تھے جو ایران کے نو منتخب صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری کے موقعے پر تہران میں تھے۔

اسرائیلی چینل 12 جسے اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس نے آپریشن کی تفصیلات کے بارے میں نئی اور حساس معلومات شائع کرنے کی اجازت دی ہے نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ "ھنیہ کو کئی بار تہران میں اپنی رہائش گاہ پر جاتے اور ایک ہی کمرے میں رہتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ ہنیہ کے قتل کی رات ان کے کمرے میں ایئر کنڈیشنر خراب ہوگیا، ایئرکنڈیشن کی خرابی کے بعد اسرائیل کو لگا کہ وہ ھنیہ کے قتل کا مشن منسوخ کر دے گا،لیکن ایرانیوں نے اسے ٹھیک کر دیا"۔

چینل نے اشارہ کیا کہ "ھنیہ کا قتل انٹیلی جنس کی تاریخ کا سب سے خطرناک اور حساس واقعہ تھا۔ وہ اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں سے ایک تھے"۔

تقریباً پانچ ماہ بعد اسرائیل نے ایرانی دارالحکومت تہران میں ہونے والے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ہنیہ کو اس نے قتل کیا تھا۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے گذشتہ پیر کو پہلے عوامی اعتراف میں کہا تھا کہ ہنیہ کے قتل کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم حوثیوں پر سخت حملہ کریں گے، ان کے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے اور ان کے رہ نماؤں کے سر قلم کریں گے، جیسا کہ ہم نے تہران میں ہنیہ، غزہ میں یحییٰ سنوار اور لبنان میں حسن نصر اللہ کا قتل کیا۔ اب ہم یہ کام الحدیدہ اور صنعا میں کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں