شام کا اسرائیل سے ایک بار پھر جنوبی سرحد کے اندر مقبوضہ علاقے خالی کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کی حکومت نے ایک بار پھر اسرائیل سےمطالبہ کیا ہے وہ جنوبی سرحد کے اندر قبضے میں لیے گئے علاقے خالی کرے اور اپنی فوج واپس بلائے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بدھ کے روز اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل فار پیس کیپنگ آپریشنز جین پیئر لاکروکس سے ملاقات کے دوران حکام نے اسرائیلی افواج سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کے جنوب میں ان علاقوں سے دستبردار ہو جائیں جن میں انہوں نے دراندازی کی تھی۔

خبر رساں ایجنسی سانا نے رپورٹ کیا کہ وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور وزیر دفاع مرہف ابو قصرہ نے اقوام متحدہ کے ایک وفد سے ملاقات کی جس میں لاکروکس بھی شامل تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میٹنگ کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ شام 1974ءکے مینڈیٹ کے مطابق" اقوام متحدہ کے ساتھ مکمل تعاون کرنے اور سرحد پر اپنی پوزیشنوں کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیلی افواج فوری طور پر پیچھے ہٹ جائیں۔ "

شامی فوج 8 دسمبر کو مسلح دھڑوں کے دمشق پہنچنے اور بشار الاسد کے فرار ہونے سے پہلے ہی ملک کے جنوب میں اپنی پوزیشنوں سے غیر منظم طریقے سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔

اسد کے اقتدار کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد اسرائیل نے اعلان کیا کہ اس کی افواج بفر زون میں پیش قدمی کر چکی ہیں جہاں 1973 کی جنگ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان علیحدگی کے معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی افواج کو تعینات کیا گیا تھا۔

گولان کی پہاڑیوں میں غیر فوجی بفر زون شامی سطح مرتفع کے اس حصے کے کنارے پر واقع ہے جس پر اسرائیل نے 1967ء میں قبضہ کیا تھا اور 1981 میں اس کے الحاق کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے منگل کو کہا تھا کہ اسرائیلی فوج کوہ حرمون کی چوٹی پر اور بفر زون میں "غیر معینہ مدت کے لیے تعینات رہے گی۔ ہم دشمن قوتوں کو اپنی پوزیشن پر نہیں رہنے دیں گے.کسی بھی خطرے کے خلاف کارروائی کریں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں