حماس کے ساتھ جنگ بندی پر نئے مذاکرات سے قبل غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ

ٹرمپ کی جانب سے دھمکی، اسرائیل کا ابتدائی مرحلے کی توسیع پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اسرائیل نے اتوار کے روز شمالی غزہ میں مزاحمت کاروں پر ایک فضائی حملہ کیا جس سے پہلے ہی نازک جنگ بندی کو ایک اور دھچکا لگا ہے۔ اسی دوران اسرائیل حماس کے ساتھ جنگ بندی کے مستقبل پر دوحہ میں تازہ مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے۔

حماس نے بار بار جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر فوری مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس سے اسے امید ہے کہ جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث ہو گا۔

تاہم اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اپریل کے وسط تک ابتدائی مرحلے کی توسیع کو ترجیح دیتا ہے۔

مذاکرات میں پیش رفت کے طریقے پر اختلاف اس وقت سامنے آیا جب معاہدے کا پہلا مرحلہ اس ماہ کے آغاز میں ختم ہو گیا اور تعطل پر اسرائیل نے علاقے میں امداد کا داخلہ بند کر دیا۔

حماس نے ایک بیان میں کہا، ہمارے نمائندگان نے ہفتے کے آخر میں قاہرہ میں ثالثین سے ملاقات کی جس میں محصور علاقے میں "بغیر کسی پابندی یا شرائط کے" انسانی امداد کی فراہمی دوبارہ شروع کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

حماس کے سینئر رہنما محمود مرداوی نے اے ایف پی کو بتایا، "حماس قابض اسرائیل کو متفقہ پیرامیٹرز کے تحت دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع کرنے پر فوراً مجبور کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ اس سے لڑائی کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار ہو گی۔"

مرداوی نے کہا، دوسرے مرحلے کے لیے حماس کے اہم مطالبات میں غزہ سے مکمل اسرائیلی انخلاء، اسرائیلی ناکہ بندی کا خاتمہ، فلسطینی سرزمین کی تعمیرِ نو اور مالی معاونت شامل ہیں۔

ثالثین کے ساتھ مذاکرات کے بعد حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے کہا، اشارے اب تک "مثبت" ہیں۔

حماس کے ایک ذریعے نے اتوار کو بتایا کہ اس کا وفد قاہرہ سے دوحہ کے لیے روانہ ہو گیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ وہ پیر کو قطری دارالحکومت میں وفود بھیجے گا اور اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ سیکورٹی کابینہ اتوار کو بعد میں اس معاملے پر بات کرے گی۔

جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے کے اختتام کے باوجود فریقین نے مکمل جنگ دوبارہ شروع کرنے سے گریز کیا ہے حالانکہ تشدد کے اکا دکا واقعات ہوتے رہے ہیں۔

اسرائیل نے جنگ بندی میں توسیع پر اختلافِ رائے کے باعث امداد کا سلسلہ دوبارہ منقطع کر دیا جس کے بعد اقوامِ متحدہ کے حقوق کے ماہرین نے اسرائیلی حکومت پر "بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے" کا الزام لگایا۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے ترجمان خلیل الدکران نے کہا، "اب تک صرف 10 فیصد ضروری طبی سامان کی اجازت ملی ہے جس سے بحران مزید بڑھ گیا ہے۔ راہداری کی مسلسل بندش سے غزہ میں مریضوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔"

بے گھر فلسطینی بیوہ حنین الدرۃ نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے اور ان کے بچوں نے ایک خیمہ ملنے سے پہلے "کتوں اور چوہوں کے درمیان" سڑک پر کئی ہفتے گذارے۔

انہوں نے کہا، "خاندان کی کفیل کے طور پر یہ بات پریشان کن تھی اور میں رات کو بالکل نہیں سو سکتی تھی۔"

'آخری انتباہ'

گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقی تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہ کرنے کی صورت میں غزہ کو مزید تباہ کر دینے کی دھمکی دی تھی جسے انہوں نے حماس کے رہنماؤں کو "آخری انتباہ" قرار دیا تھا۔

انہوں نے غزہ کے تمام باشندوں کے لیے اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "ایک خوبصورت مستقبل انتظار کر رہا ہے لیکن صرف اس صورت میں کہ آپ قیدیوں کو رہا کر دیں۔ اگر ایسا نہیں کرتے تو آپ ختم ہو جائیں گے!"

حماس نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکیوں سے اسرائیل کو جنگ بندی کی شرائط نظر انداز کرنے کی ترغیب ملے گی، اور کچھ نہ ہو گا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے حماس کے ساتھ غیر معمولی براہِ راست مذاکرات کے آغاز کی بھی تصدیق کی ہے جس سے واشنگٹن نے 1997 میں دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد سے رابطہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

حماس کے قیدیوں میں پانچ امریکی بھی شامل ہیں جن میں سے چار قیدیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ ایک ایڈن الیگزینڈر کے زندہ ہونے کا امکان ہے۔

ٹرمپ نے اس سے قبل فلسطینیوں کے غزہ سے انخلاء کا ایک منصوبہ پیش کیا تھا جس کی وسیع پیمانے پر مذمت ہوئی اور عرب رہنما اس کا متبادل پیش کرنے پر آمادہ ہوئے۔

عرب تجویز میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی جائے گی جس میں رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کی اس علاقے پر دوبارہ حکومت ہو گی۔

ٹرمپ کے شرقِ اوسط کے ایلچی سٹیو وٹ کوف نے عرب منصوبے کے جواب میں واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا، "ہمیں اس کے بارے میں مزید بات چیت کی ضرورت ہے لیکن یہ نیک نیتی کا پہلا قدم ہے۔"

وٹ کوف یوکرین جنگ پر بات چیت کے لیے اس ہفتے سعودی عرب کا سفر کریں گے۔

تل ابیب میں ہفتے کے آخر میں ہونے والی ریلی میں اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ نے حکومت سے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

متان زنگاؤکر کی والدہ ایناو زنگاؤکر نے کہا، "جنگ ایک ہفتے میں دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ اس سے قیدی گھر واپس نہیں آئیں گے بلکہ ہلاک ہو جائیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں