شام کے وزیر دفاع نے ان تمام عسکری گروپوں سے اپیل کی ہے جو ابھی تک اپنا وجود ختم کر کے ملک کی مسلح افواج میں شامل نہیں ہوئے ہیں وہ دس دنوں کے اندر اندر فوج میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لیں۔
اس اپیل کے ساتھ وزیر دفاع نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ جو گروپ اس مہلت سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے ان کے خلاف ضروری اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
شام کی احمد الشرع کے زیر قیادت کام کرنے والی نئی حکومت کی طرف سے نسبتا سخت انتباہ اقتدار سنبھالنے کے چھ ماہ بعد سامنے آیا ہے۔
بشارالاسد کے اقتدار کا خاتمہ کرنے کے بعد عسکری گروپ ھیتہ التحریر الشام نے آٹھ دسمبر 2024 کو اقتدار سنبھالا تھا۔ اب اس حکومت کو امریکہ نے بھی تسلیم کر لیا ہے اور احمد الشرع کی صدر ٹرمپ کے ساتھ سعودی عرب میں ایک ملاقات بھی ہو گئی ہے۔
حکومتی ماتحتی میں منظم کی گئی فوج کے علاوہ عام گروپوں کے پاس ہتھیاروں کی موجودگی حکومت کے لیے کسی بھی وقت چیلنج بن سکتی ہے۔ نیز نئی حکومت یہ رسک لینا نہیں چاہتی ہے۔ اس سے پہلے مسلح گروپ شام میں پچھلے طویل عرصے سے موجود ہیں۔
شامی وزیر دفاع ابو قصرہ نے اپنے تازہ بیان میں جو ہفتے کی رات دیر گئے سامنے آیا ہے اس میں کہا ہے کہ فوج کے یونٹ اب ایک منظم فوجی ادارے کے تحت مربوط ہو چکے ہیں۔ جوکہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے مزید کہا 'ہم باقی ماندہ گروپوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شامی فوج کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اس کے لیے انہیں 10 دنوں کا وقت دیا جا رہا ہے۔' تاہم اس موقع پر انہوں نے اس امر کا اظہار نہیں کیا کہ اگر ان گروپوں نے فوج میں شمولیت اختیار نہ کی تو ان کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
-
شام کی نئی حکومت تسلیم کرنے سے پہلے اسرائیل سے مشاورت نہیں کی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نئی شامی حکومت کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے قبل ...
بين الاقوامى -
شام کا ارادہ بدل گیا، نئی کرنسی کی طباعت روس کے بجائے امارات اور جرمنی میں
شام اب اپنی نئی کرنسی روس کے بجائے متحدہ عرب امارات اور جرمنی میں طبع کرنے کا ...
مشرق وسطی -
شام پر عائد پابندیوں کا خاتمہ بحالی کے لیے عظیم موقع ہے : سعودی عرب
سعودی وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ عادل الجبیر نے بغداد میں منعقدہ عرب لیگ کے 34 ...
مشرق وسطی