سوئس حکام کی امریکی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کی تحقیقات

اقوامِ متحدہ کی بھی تنظیم کی مخالفت، ساتھ مل کر کام کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سوئس حکام نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ اس بات کی کھوج کر رہے ہیں کہ آیا امریکی حمایت یافتہ تنظیم غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کی سرگرمیوں کی قانونی تحقیقات شروع کی جائیں جو فلسطینی انکلیو میں امداد کی تقسیم کی نگرانی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ایک سوئس این جی او کی جانب سے جی ایچ ایف کے امدادی منصوبے کی تحقیقات کے لیے درخواست جمع کرانے کے بعد یہ اقدام سامنے آیا ہے۔ اس تنظیم کی اقوامِ متحدہ نے یہ کہہ کر مخالفت کی ہے کہ یہ غیرجانبدار نہیں ہے اور اس کی وجہ سے لوگوں کو مزید نقلِ مکانی پر مجبور ہونے اور ہزاروں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

جی ایچ ایف جس نے مئی کے آخر تک غزہ میں کام شروع کرنے کی امید ظاہر کی ہے، نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ انسانی ہمدردی کے اصولوں پر "سختی سے عمل پیرا ہے" اور یہ کہ وہ شہریوں کی جبری نقلِ مکانی کی کسی بھی شکل کی حمایت نہیں کرے گی۔

اسرائیل نے اس ہفتے کے شروع میں محدود امدادی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں قائم ایک این جی او ٹرائل انٹرنیشنل نے جمعہ کو کہا کہ اس نے دو قانونی گذارشات دائر کیں جن میں سوئس حکام سے اس بات کی تحقیقات کرنے کو کہا گیا کہ آیا سوئس رجسٹرڈ جی ایچ ایف سوئس قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی تعمیل کرتی ہے۔

یہ گذارشات 20 اور 21 مئی کو سوئس فیڈرل سپروائزری اتھارٹی فار فاؤنڈیشنز اور سوئس فیڈرل ڈیپارٹمنٹ آف فارن افیئرز (ایف ڈی ایف اے) کو دی گئیں۔

ایف ڈی ایف اے نے اتوار کو رائٹرز کو تصدیق کی کہ دونوں حکام کو گذارشات موصول ہو گئی تھیں۔

ٹرائل انٹرنیشنل نے بیایا کہ اس نے سوئس ایف ڈی ایف اے سے یہ وضاحت طلب کی کہ آیا جی ایچ ایف نے سوئس قانون کے مطابق نجی سکیورٹی کمپنیوں کو امداد کی تقسیم کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے کوئی اعلامیہ جمع کرایا تھا اور کیا اسے سوئس حکام نے منظور کیا تھا۔

ایف ڈی ایف اے نے رائٹرز کو بتایا، وہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا فاؤنڈیشن کے لیے اس طرح کے اعلان کی ضرورت ہو گی یا نہیں۔

نیز کہا گیا ہے کہ فیڈرل سپروائزری بورڈ فار فاؤنڈیشنز اس بات کا جائزہ نہیں لے سکتا کہ آیا فاؤنڈیشن اپنی سرگرمیاں شروع کرنے تک ان کے قوانین کی تعمیل کرتی ہیں۔

جی ایچ ایف نے رائٹرز کو بتایا کہ اگرچہ پرائیویٹ سکیورٹی فرمز کا استعمال امداد کی فراہمی کے پہلے سے بنائے گئے لائحہ عمل میں تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے لیکن یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ امداد کا رخ حماس یا مجرمانہ تنظیموں کی طرف نہ مڑ جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں