غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 9 بہن بھائی قتل، مصری دادی نے دل دہلا دینے والی تفصیل بتا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک دل دہلا دینے والا منظر سوشل میڈیا پر عام ہو چکا ہے۔ ایک مصری خاتون نے اپنے بیٹے سے اپنے 9 پوتوں کو کھو دیا ہے۔ ان کا بیٹا غزہ کی پٹی میں اندرونی امراض اور اینڈوسکوپی سرجری کے ماہر ڈاکٹر ہیں۔ یہ دل گرفتہ خاتون بثینہ حمدی محمد ہیں جو مصر کے شمالی سینا صوبے کے شہر العریش میں رہتی ہیں۔

مصری خاتون جنہوں نے فلسطینی شہریت رکھنے والے ایک شخص سے شادی کی تھی نے بتایا کہ انہیں اپنے بیٹے کے 9 بیٹے بیٹیوں کی موت کی خبر ان کے گھر پر بمباری کے بعد ملی۔

دل گرفتہ دادی نے "العربیہ نیٹ" کو اپنے درد کی تفصیلات سنائیں۔ اپنے بیٹے ڈاکٹر حمدی یحییٰ النجار کے 9 اولادوں کو کھونے کے بعد انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ سال مصر واپس آئی تھی اور اپنے بیٹے سے میرے ساتھ واپس آنے کو کہا تھا لیکن میرا بیٹا، جس کے 11 بچے ہیں، میرے ساتھ واپس نہیں آ سکا۔ اس نے غزہ میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے گھر میں ایک طبی کمپلیکس ہے جہاں وہ زخمیوں کا علاج کرتا ہے۔ اس کی بیوی ایک ڈاکٹر ہے اور جنگی حالات کی وجہ سے میرا بیٹا اپنی بیوی کو ایک ہسپتال میں اس کے کام پر چھوڑنے گیا تھا۔ جب وہ واپس آیا تو اسے یہ جان کر صدمہ پہنچا کہ اس کے گھر پر ایک میزائل فائر کیا گیا تھا اور اس کے تمام بچے گھر کے اندر تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اپنے بیٹے کا فون آیا جس نے مجھے اپنے 9 بچوں کے کھونے کی اطلاع دی اور ایک ہی بچہ شدید جلنے کے زخموں کے ساتھ زندہ بچا ہے۔ اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور بچوں کی لاشیں ہر جگہ جلے ہوئے ٹکڑوں میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ میرا بیٹا صدمے سے ہوش کھو بیٹھا اور اسے بھی کئی زخم بھی آئے ہیں۔ اس کی بیوی اپنے بچوں کو کھو دینے کی وجہ سے انتہائی دل گرفتہ ہے۔

خاتون نے اپنے بیٹے اور بہو کی مصر واپسی کا مطالبہ کیا تاکہ ان کا علاج ہو سکے اور اپنے 9 بچوں کو کھونے کے بعد ان کی نفسیاتی حالت کا خیال رکھا جا سکے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بچوں کی عمریں 3 سال سے 12 سال کے درمیان تھیں۔ یہ بچے سیدین 3 سال، ریفال 5 سال، راکان 10 سال، جبران 8 سال، رسلان 7 سال، ایو 9 سال اور یحییٰ 12 سال تھے۔ اس کی پہلی بیٹی بھی جنگ کے آغاز میں ہلاک ہو گئی تھی۔

آلاء النجار کا واقعہ عرب دنیا میں اس وقت چھا گیا جب ماں، جو ناصر میڈیکل کمپلیکس کے التحریر ہسپتال میں بچوں کی ماہر ڈاکٹر ہے، نے اپنے 9 بچوں کی لاشیں اس وقت وصول کیں جب وہ ڈیوٹی پر تھیں۔ ان کے گھر کو غزہ پٹی کے جنوبی شہر خان یونس میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ ڈاکٹر کام پر میڈیکل کمپلیکس پہنچی تھیں جب ان کے شوہر نے انہیں ہسپتال پہنچایا تھا لیکن جیسے ہی وہ گھر واپس آئے ایک اسرائیلی میزائل نے اس گھر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ان کے 9 بچے ہلاک ہو گئے اور دسواں بچہ زخمی ہو گیا تھا۔

ننھے بچوں کی جھلسی ہوئی لاشیں

غزہ پٹی میں وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے "ایکس" پر ایک پوسٹ میں ڈاکٹر کے گھر سے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ننھے بچوں کی جھلسی ہوئی لاشیں نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ڈاکٹر آلاء النجار ناصر میڈیکل کمپلیکس کے التحریر ہسپتال میں بچوں کی ماہر ڈاکٹر ہیں اور ان کے دس بچے ہیں جن میں سب سے بڑا 12 سال سے زیادہ کا نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں