غزہ کے رہائشیوں اور تاجروں نے بدھ کے روز کہا کہ علاقے میں خوراک پہنچانے والے اقوامِ متحدہ کے ٹرکوں کو راتوں رات روک کر لوٹ لیا گیا۔ مایوس فلسطینیوں نے ایک امریکی حمایت یافتہ امدادی گروپ کے تقسیمی مرکز پر قبضہ کر لیا جس کے چند گھنٹے بعد لوٹ مار کا واقعہ پیش آیا۔
یہ واقعات ان مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جو ایک ہفتے کی اسرائیلی ناکہ بندی کے بعد بھوک اور فاقہ کشی کا شکار لاکھوں فلسطینیوں کو رسد کی فراہمی میں درپیش ہیں۔
منگل کے روز اسرائیلی فوجیوں نے انتباہی گولیاں چلائیں جب ہجوم غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے ایک تقسیمی مرکز پر پہنچ گیا۔ جی ایچ ایف نے ایک نئے نظام کے تحت امداد کی فراہمی شروع کی ہے جس سے اسرائیل کو امید ہے کہ امداد حماس کے ہاتھ لگنے سے بچ جائے گی۔
اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی امدادی گروپوں نے اس مہم میں حصہ لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ امداد صرف ضرورت کی بنیاد پر غیر جانبداری سے تقسیم ہونی چاہیے۔
نیا نظام شروع ہوا تو اسرائیلی فوج نے اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی گروپوں سے تعلق رکھنے والے 95 ٹرکوں کو بھی انکلیو میں جانے کی اجازت دی لیکن غزہ کے تین رہائشیوں اور تین تاجروں نے بتایا کہ متعدد ٹرکوں کو لٹیروں نے لوٹ لیا۔
ایک فلسطینی ٹرانسپورٹ آپریٹر نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام سے تعلق رکھنے والے کم از کم 20 ٹرکوں پر آدھی رات سے کچھ دیر پہلے حملہ ہوا۔
ایک عینی شاہد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر چیٹ ایپ کے ذریعے رائٹرز کو بتایا، "کچھ ٹرک اندر داخل ہو گئے، پھر شاید لوگوں کو پتا چل گیا۔ وہ جاگ گئے، بعض نے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور سامان چوری کر لیا۔"
دریں اثناء فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے بدھ کے روز بھی حملے جاری رکھے جس میں ایک مقامی صحافی کے خاندان کے آٹھ افراد سمیت کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔
سکریننگ
نئے نظام کے تحت امداد کی اہلیت کے لیے افراد کو سکریننگ سے گذرنا پڑتا ہے تاکہ ان کے حماس سے منسلک نہ ہونے کا یقین ہو جائے۔ اس اقدام نے امدادی کارروائیوں کو فلسطینیوں کی نظر میں مشکوک کر دیا ہے۔
لیکن منگل کو عینی شاہدین نے کہا کہ شناخت کا کوئی مؤثر عمل موجود نہیں۔
مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے سربراہ اجیت سنگھے نے کہا، "ہم نے کل جو کچھ دیکھا، وہ خوراک کی تقسیم میں درپیش خطرات کی ایک واضح مثال تھی۔"
انہوں نے جنیوا میں نامہ نگاروں کو بتایا، "ہم لوگوں کو موت اور زخموں کا شکار کر رہے ہیں۔ افراتفری پھیل جانے پر فائرنگ سے 47 افراد زخمی ہو گئے۔"
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ ہجوم نے سامان کے کریٹس تک پہنچنے کی کوشش میں باڑ توڑ دی اور وہاں کام کرنے والے سکیورٹی کے نجی ٹھیکیدار پیچھے ہٹ گئے۔
غزہ شہر سے تعلق رکھنے والے سات بچوں کے والد 65 سالہ رباح رازق نے کہا، "میں ایک بڑی عمر کا آدمی ہوں لیکن جب میں نے عورتوں، مردوں اور بچوں کو تھوڑے سے کھانے کے لیے دوڑتے ہوئے دیکھا تو میں اپنے آنسو نہیں روک سکا۔"
اسرائیل نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ عام شہریوں کے لیے امداد پر قبضہ کر رہا تھا جبکہ حماس نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ انہیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ حماس نے ٹرک لوٹے۔
تاہم حماس نے غزہ کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ جنوبی غزہ میں نئے نظام کے لیے قائم کردہ چار تقسیمی مقامات پر نہ جائیں۔ اس نے مقامات تک رسائی کو روکنے کے اسرائیلی الزامات کی تردید کی۔
بڑھتا ہوا دباؤ
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے اس بات کو "افسوسناک اور ناگوار" قرار دیا کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر گروپ امداد کی تقسیم کے نئے نظام میں حصہ نہیں لے رہے۔
انہوں نے رائٹرز کو بتایا، "لوگوں کی قطاریں تھیں جنہیں کھانا ملا جسے حماس نے چوری نہیں کیا۔ اسے تقسیم کرنے کا طریقہ اب تک تو مؤثر ہے۔"
اسرائیل کو غزہ کی سنگین انسانی صورتِ حال پر ان ممالک کی طرف سے بھی بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے جو طویل عرصے سے سخت تنقید کرنے سے گریزاں رہے ہیں۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے کہا ہے کہ فوجی مہم نہ روکنے کی صورت میں وہ کارروائی کر سکتے ہیں۔ بدھ کے روز اٹلی نے بھی کہا ہے کہ اسرائیلی کارروائی ناقابلِ قبول ہو گئی ہے اور اسے فوری طور پر روکا جائے۔
-
غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی ناقابلِ قبول: اٹلی کا اعلان
غزہ میں محصور آبادی کو درپیش شدید مشکلات اور زندگی کے ناقابلِ برداشت حالات کے ...
بين الاقوامى -
حماس کا غزہ میں جنگ بندی کی امریکی تجویز سے اتفاق کا اعلان مگر اسرائیل نے تجویز مسترد کردی
فلسطینی تنظیم ’حماس‘ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کی جانب سے ...
مشرق وسطی -
گزرگاہوں کو کھولا جائے اور غزہ میں امداد داخل کی جائے : فلسطینی وزارت خارجہ
غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں غذائی امداد کی تقسیم کے دوران پیدا ہونے والی شدید ...
مشرق وسطی