یاہو شام کے ساتھ سیکورٹی معاہدے کے لیے کوشاں ہیں : اسرائیلی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک اسرائیلی عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے شام کے لیے امریکی صدر کے ایلچی، ٹوم باراک، سے کہا ہے کہ واشنگٹن، دمشق کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی کرے۔ یہ بات انگریزی نیوز ویب سائٹ "axios" نے بتائی۔

عہدے دار نے آج بدھ کے روز بتایا کہ نیتن یاہو شام کے ساتھ ایک سیکیورٹی معاہدہ اور بالآخر ایک جامع امن معاہدہ حاصل کرنے کے خواہاں

ہیں۔

گزشتہ ماہ شامی صدر احمد الشرع نے پیرس میں قصرِ الیزے میں اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، جن کا مقصد حالات کو پُر امن رکھنا اور انھیں قابو سے باہر ہونے سے روکنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی الشرع سے ملاقات کے بعد اشارہ دیا تھا کہ شامی صدر بالآخر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے تیار ہیں، "لیکن یہ عمل وقت لے گا"۔ تاہم الشرع نے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، بلکہ اس کے بجائے کہا کہ وہ 1974ء کے جنگ بندی معاہدے کی شرائط کی بحالی کے حامی ہیں، جس کے تحت اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں جولان کی پہاڑیوں میں ایک غیر فوجی زون قائم کیا گیا تھا۔

" نیک نیتی"

گزشتہ ماہ ایک اسرائیلی عہدے دار نے العربیہ کو بتایا تھا کہ اسرائیل اور شام کی نئی حکومت کے نمائندوں کے درمیان ترکی کی سرپرستی میں کچھ ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ عہدے دار نے انھیں "مثبت" قرار دیا تھا۔

عہدے دار نے مزید بتایا کہ دمشق نے اسرائیل کے ساتھ نیک نیتی کے بعض اشارے دیے ہیں، اور اسرائیل بھی اس کے جواب میں مثبت رویہ اپنائے گا۔

شامی قیادت نے حالیہ دنوں میں نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طویل عرصے قبل پھانسی دیے گئے اسرائیلی جاسوس ایلی کوہن کی کچھ اشیاء اسرائیل کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں