ایرانی میڈیا: سپریم لیڈر خامنہ ای بہ خیریت مگر ان کے مشیر شمخانی شدید زخمی

اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر اور ایٹمی سائنسدان ہلاک، بنجمن نیتن یاھو نے کارروائی کو "تاریخی لمحہ" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے اعلیٰ سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے "رائیٹرز" کو بتایا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای محفوظ اور خیریت سے ہیں اور انہیں اسرائیلی حملے کے بعد کی صورتحال پر مسلسل بریفنگ دی جا رہی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے "نورنیوز" کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں اور ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابوالفضل شکرچی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ "اسرائیل اور امریکہ اس حملے کی بھاری قیمت چکائیں گے"۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے تصدیق کی ہے کہ تہران پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ ایران کے متعدد ایٹمی سائنسدان بھی جان کی بازی ہار گئے۔

اسرائیلی حکومت نے جمعے کی صبح اعلان کیا کہ اس نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا ہے تاکہ تہران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔ ایرانی میڈیا اور عینی شاہدین نے بتایا کہ مختلف مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن میں ملک کی مرکزی یورینیم افزودگی تنصیب بھی شامل ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اس کارروائی کو "اسرائیل کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ" قرار دیا اور کہا کہ حملے کا ہدف اُن ایرانی سائنسدانوں کو بھی بنانا تھا جو ایٹم بم بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے تھے، ساتھ ہی ایران کی میزائل فیکٹریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فوجی آپریشن آئندہ دنوں تک جاری رہے گا۔

ادھر اسرائیل نے کسی بھی ممکنہ جوابی حملے کے پیشِ نظر ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ خاص طور پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں