مشرق وسطیٰ

وسطی غزہ میں اسرائیلی انخلاء کے احکامات امدادی کوششوں کے لیے ’تباہ کن دھچکا‘ ہیں: یو این

غزہ کی دو ملین سے زیادہ آبادی اب صرف 12 فیصد علاقے میں سمٹ گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور (اوچا) نے اتوار کے روز کہا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے دیر البلح کے رہائشیوں اور بے گھر لوگوں کو انخلاء اور جنوب کی جانب منتقل ہونے کا جو حکم دیا ہے، وہ جنگ زدہ علاقے میں انسانی ہمدردی کی کوششوں کے لیے "ایک اور تباہ کن دھچکا" ہے۔

ایک بیان میں کہا گیا، اوچا نے "خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے آج جاری کردہ وسیع نقلِ مکانی کے حکم سے غزہ کے لوگوں کی خود کو زندہ رکھنے کی اُن امیدوں کو ایک اور تباہ کن دھچکا لگا ہے جو پہلے ہی کمزور ہیں۔"

اتوار کی صبح اسرائیلی فوج نے غزہ کے وسطی علاقے میں موجود لوگوں کو جلد ہونے والی کارروائیوں کی وجہ سے فوراً وہاں سے انخلاء کا حکم دیا جس کے بعد پورے کے پورے خاندان اپنا تھوڑا سا سامان لے کر جنوب کی طرف جاتے ہوئے دیکھے گئے۔

اوچا نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا عملہ علاقے میں "باقی رہا"۔

اوچا نے خبردار کیا کہ علاقے میں صحت کے کلینک، پانی کے بنیادی ڈھانچوں اور امدادی گوداموں کو کسی بھی قسم کا نقصان "مہلک نتائج کا باعث بنے گا" اور کہا، "نقلِ مکانی کے احکامات سے قطع نظر تمام شہری مقامات کی طرح ان مقامات کی حفاظت ہونی چاہیے۔"

اوچا کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق جب انخلا کا حکم جاری کیا گیا تو علاقے میں 50,000 سے 80,000 کے درمیان لوگ موجود تھے۔

اس کے مطابق تازہ ترین حکم نامے کا مطلب ہے کہ غزہ کا 87.8 فیصد علاقہ اب نقلِ مکانی کے احکامات کے تحت یا اسرائیلی عسکری علاقوں کے اندر ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے کہا کہ اس کے نتیجے میں "2.1 ملین شہری پٹی کے صرف 12 فیصد پُرہجوم علاقے میں سمٹ کر رہ گئے ہیں جہاں ضروری خدمات منہدم ہو چکی ہیں"۔

اس حکم سے "اقوامِ متحدہ اور ہمارے شراکت داروں کی غزہ کے اندر محفوظ اور مؤثر نقل و حرکت کی صلاحیت محدود ہو جائے گی جس سے انسانی ہمدردی کی اشد ضروری رسائی رک جائے گی۔"

اسرائیل نے اتوار کے روز ملک میں اوچا کے سربراہ جوناتھن وائٹل کا رہائشی اجازت نامہ واپس لے لیا جنہوں نے غزہ میں انسانی حالات کی بارہا مذمت کی ہے۔

یاد رہے کہ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق علاقے میں اسرائیل کے حملوں اور فوجی مظالم کے نتیجے میں 58,895 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں