جمعہ کو امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف نے تل ابیب میں امریکی سفیر کے ہمراہ جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں ایک امدادی تقسیم کے مرکز کا دورہ کیا جس کے ارد گرد فلسطینی پٹی کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں مزید اسرائیلی ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کی موجودگی کے ساتھ سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا تھا۔
المبعوث الأميركي ستيف ويتكوف يصل إلى مركز مساعدات في رفح بقطاع غزة #فلسطين#قناة_العربية pic.twitter.com/mabq6ENqWA
— العربية (@AlArabiya) August 1, 2025
وٹکوف نے پٹی کے دورے کے بعد اپنے پہلے بیان میں کہا کہ غزہ کے دورے کا مقصد صدر ٹرمپ کو انسانی صورتحال کی جامع تفصیل دینا اور غزہ کے لوگوں تک خوراک اور طبی امداد پہنچانے کے منصوبے کی تشکیل میں مدد کرنا ہے۔
This morning I joined @SEPeaceMissions Steve Witkoff for a visit to Gaza to learn the truth about @GHFUpdates aid sites. We received briefings from @IDF and spoke to folks on the ground. GHF delivers more than one million meals a day, an incredible feat! pic.twitter.com/GyVK5cwNgZ
— Ambassador Mike Huckabee (@USAmbIsrael) August 1, 2025
وٹکوف نے مزید کہا کہ آج ہم نے غزہ کے اندر پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لیں، حالات کا تعین کریں اور "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن" اور دیگر ایجنسیوں سے ملاقات کریں۔ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہیکابی نے "ایکس" پر کہا ہے کہ میں آج غزہ گیا اور میں نے امریکہ کی طرف سے شروع کیا گیا ایک انسانی خوراک کا پروگرام دیکھا۔ انہوں نے وٹکوف کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی۔
This morning I joined @SEPeaceMissions Steve Witkoff for a visit to Gaza to learn the truth about @GHFUpdates aid sites. We received briefings from @IDF and spoke to folks on the ground. GHF delivers more than one million meals a day, an incredible feat! pic.twitter.com/GyVK5cwNgZ
— Ambassador Mike Huckabee (@USAmbIsrael) August 1, 2025
وٹکوف نے جمعرات کو اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ملاقات کی تھی تاکہ غزہ میں جنگ بندی کی بات چیت کو بچانے اور فلسطینی پٹی میں انسانی بحران سے نمٹا جا سکے۔ غزہ کی پٹی میں ایک عالمی بھوک کی نگرانی کرنے والی تنظیم نے قحط کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ وٹکوف کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب نیتن یاہو کی حکومت پر غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور امداد پر عائد پابندیوں کی وجہ سے بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
تعزيزات إسرائيلية تضم مزيدا من الدبابات والآليات العسكرية قرب مراكز توزيع المساعدات في #غزة تمهيداً لزيارة ويتكوف#قناة_العربية pic.twitter.com/YhR7oRSwoE
— العربية (@AlArabiya) August 1, 2025
تمام یرغمالیوں کی رہائی کا منصوبہ
وٹکوف اور نتن یاہو کے درمیان ملاقات کے بعد ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اور امریکہ نے کچھ یرغمالیوں کی رہائی کے منصوبے سے تمام یرغمالیوں کی رہائی، حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کی پٹی کو ایک غیر فوجی علاقہ بنانے کے منصوبے کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت کو سمجھ لیا ہے۔
عہدیدار نے اس منصوبے کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں لیکن اسے ایک محدود جنگ بندی کی کوشش سے ایک جامع معاہدے کی طرف ایک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ غزہ میں لڑائی جاری رہنے کے ساتھ ساتھ انسانی امداد میں اضافہ کرنے کے لیے کام کریں گے۔
قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وٹکوف جمعہ کو غزہ جائیں گے تاکہ خوراک کی فراہمی کے عمل کا معائنہ کریں اور فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ وہ پٹی میں امدادی سامان کی فراہمی کو تیز کرنے کے لیے ایک حتمی منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔
خوفناک صورت حال
وٹکوف کے اسرائیل پہنچنے کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر کہا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران کو ختم کرنے کا سب سے تیز طریقہ یہ ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کر دے!۔ ٹرمپ نے جمعرات کو غزہ کی صورتحال کو اس وقت "خوفناک" قرار دیا تھا جب ان کی اتحادی ریپبلکن نائب مارجوری ٹیلر گرین کے ان بیانات کے بارے میں پوچھا گیا تھا جنہوں نے فلسطینی پٹی پر اسرائیلی حملے کو نسل کشی قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے وہ خوفناک ہے۔ ہاں یہ ایک خوفناک چیز ہے۔ لوگ شدید بھوک کا شکار ہیں۔ ٹرمپ نے غزہ میں بھوک کے بحران سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن کی طرف سے فراہم کی جانے والی مالی امداد کے بارے میں بھی بات کی تھی۔
مذاکرات میں تعطل
اسرائیل اور حماس کے درمیان دوحہ میں بالواسطہ جنگ بندی کی بات چیت گزشتہ ہفتے تعطل کا شکار ہو گئی تھی یونکہ فریقین نے ایک دوسرے پر تعطل کا سبب بننے کا الزام لگایا اور ان مسائل پر اختلافات برقرار رہے جن میں وہ لائنیں بھی شامل ہیں جہاں تک اسرائیلی افواج پیچھے ہٹیں گی۔
ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ اسرائیل نے بدھ کو حماس کی طرف سے امریکی تجویز میں کی گئی حالیہ ترامیم کا جواب بھیجا ہے جس میں 60 دن کی جنگ بندی اور فلسطینی قیدیوں کے بدلے یرغمالیوں کی رہائی کا ذکر ہے۔
حماس کی طرف سے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں آیا ہے۔ غزہ میں حماس پر اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر پہنچنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ حماس ابھی بھی غزہ میں 50 یرغمالیوں کو اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے 20 ابھی تک زندہ ہیں۔
-
غزہ کے لوگوں کو کھانا کھلانے کے ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں: ٹرمپ
وٹکوف نے امریکی صدر کو غزہ کی انسانی صورتحال کی جامع تفصیل دینے کے مقصد سے 5 گھنٹے ...
مشرق وسطی -
غزہ: ایک ایک لقمے کو ترسنے والے 1373 فلسطینیوں کو اسرائیلی ریاست نے لقمہ اجل بنا دیا
اقوم متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے جمعہ کے روز ایک بار پھر ضمیر سے اندھی بہری ...
مشرق وسطی -
غزہ سے متعلق امریکی منصوبہ: حماس کو غیر مسلح کرنا اور تمام یرغمالیوں کی ایک ساتھ رہائی
ایک اعلیٰ سطح کے اسرائیلی عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ طے پانے والے نکات میں حماس ...
مشرق وسطی