پانچ گھنٹے طویل وٹکوف کے غزہ کے دورے کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

جمعہ کو امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف نے تل ابیب میں امریکی سفیر کے ہمراہ جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح میں ایک امدادی تقسیم کے مرکز کا دورہ کیا جس کے ارد گرد فلسطینی پٹی کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں مزید اسرائیلی ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کی موجودگی کے ساتھ سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا تھا۔

وٹکوف نے پٹی کے دورے کے بعد اپنے پہلے بیان میں کہا کہ غزہ کے دورے کا مقصد صدر ٹرمپ کو انسانی صورتحال کی جامع تفصیل دینا اور غزہ کے لوگوں تک خوراک اور طبی امداد پہنچانے کے منصوبے کی تشکیل میں مدد کرنا ہے۔

وٹکوف نے مزید کہا کہ آج ہم نے غزہ کے اندر پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لیں، حالات کا تعین کریں اور "غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن" اور دیگر ایجنسیوں سے ملاقات کریں۔ اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہیکابی نے "ایکس" پر کہا ہے کہ میں آج غزہ گیا اور میں نے امریکہ کی طرف سے شروع کیا گیا ایک انسانی خوراک کا پروگرام دیکھا۔ انہوں نے وٹکوف کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی۔

وٹکوف نے جمعرات کو اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ملاقات کی تھی تاکہ غزہ میں جنگ بندی کی بات چیت کو بچانے اور فلسطینی پٹی میں انسانی بحران سے نمٹا جا سکے۔ غزہ کی پٹی میں ایک عالمی بھوک کی نگرانی کرنے والی تنظیم نے قحط کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ وٹکوف کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب نیتن یاہو کی حکومت پر غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور امداد پر عائد پابندیوں کی وجہ سے بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

تمام یرغمالیوں کی رہائی کا منصوبہ

وٹکوف اور نتن یاہو کے درمیان ملاقات کے بعد ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل اور امریکہ نے کچھ یرغمالیوں کی رہائی کے منصوبے سے تمام یرغمالیوں کی رہائی، حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کی پٹی کو ایک غیر فوجی علاقہ بنانے کے منصوبے کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت کو سمجھ لیا ہے۔

عہدیدار نے اس منصوبے کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں لیکن اسے ایک محدود جنگ بندی کی کوشش سے ایک جامع معاہدے کی طرف ایک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ غزہ میں لڑائی جاری رہنے کے ساتھ ساتھ انسانی امداد میں اضافہ کرنے کے لیے کام کریں گے۔

قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وٹکوف جمعہ کو غزہ جائیں گے تاکہ خوراک کی فراہمی کے عمل کا معائنہ کریں اور فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ وہ پٹی میں امدادی سامان کی فراہمی کو تیز کرنے کے لیے ایک حتمی منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔

خوفناک صورت حال

وٹکوف کے اسرائیل پہنچنے کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پر کہا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران کو ختم کرنے کا سب سے تیز طریقہ یہ ہے کہ حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کر دے!۔ ٹرمپ نے جمعرات کو غزہ کی صورتحال کو اس وقت "خوفناک" قرار دیا تھا جب ان کی اتحادی ریپبلکن نائب مارجوری ٹیلر گرین کے ان بیانات کے بارے میں پوچھا گیا تھا جنہوں نے فلسطینی پٹی پر اسرائیلی حملے کو نسل کشی قرار دیا تھا۔

ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے وہ خوفناک ہے۔ ہاں یہ ایک خوفناک چیز ہے۔ لوگ شدید بھوک کا شکار ہیں۔ ٹرمپ نے غزہ میں بھوک کے بحران سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن کی طرف سے فراہم کی جانے والی مالی امداد کے بارے میں بھی بات کی تھی۔

مذاکرات میں تعطل

اسرائیل اور حماس کے درمیان دوحہ میں بالواسطہ جنگ بندی کی بات چیت گزشتہ ہفتے تعطل کا شکار ہو گئی تھی یونکہ فریقین نے ایک دوسرے پر تعطل کا سبب بننے کا الزام لگایا اور ان مسائل پر اختلافات برقرار رہے جن میں وہ لائنیں بھی شامل ہیں جہاں تک اسرائیلی افواج پیچھے ہٹیں گی۔

ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ اسرائیل نے بدھ کو حماس کی طرف سے امریکی تجویز میں کی گئی حالیہ ترامیم کا جواب بھیجا ہے جس میں 60 دن کی جنگ بندی اور فلسطینی قیدیوں کے بدلے یرغمالیوں کی رہائی کا ذکر ہے۔

حماس کی طرف سے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں آیا ہے۔ غزہ میں حماس پر اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر پہنچنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ حماس ابھی بھی غزہ میں 50 یرغمالیوں کو اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے 20 ابھی تک زندہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں