غزہ میں جاری اسرائیلی ریاست کی بدترین جنگی کارروائیوں سے تباہی کے تیز تر سلسلے کے دوران بے گھر فلسطینی ٹریکٹروں ، چھکڑوں اور کچھا کھچ بھری ہوئی ویگنوں پر سوار ہو کر ساحلی سڑک کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ راستہ وسطی غزہ کی پٹی میں ہے۔
سڑکوں پر غیر معمولی رش ہے اور اسے غزہ میں تازہ ترین بڑی نقل مکانی کہا جا سکتا ہے۔ جو غزہ شہر سے بمباری کے نتیجے میں اسرائیلی فوج نے ممکن بنائی ہے۔
اسرائیلی ریاست کی فوج اس تازہ جنگی مہم کے دوران باقی ماندہ عمارات اور بے گھر لوگوں کے پناہ گزین کیمپوں کے طور پر استعمال ہونے والی کثیر المنزلہ عمارتوں کو ایسے تاک تاک کر بمباری کا نشانہ بنا رہی ہے کہ جیسے وہ کسی تعمیراتی ڈھانچے کی موجودگی کو اپنے آئندہ منصوبوں کے لیے رکاوٹ خیال کرتی ہے۔
جو لوگ اس وقت غزہ شہر سے نکل رہے ہیں وہ اپنے پیچھے انتہائی تباہی کا منظر چھوڑ کر جا رہے ہیں ، جس میں دھواں ہے ، شعلے ہیں اور بچی کھچی عمارتوں کا گرتا ہوا ملبہ ہے۔
اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ غزہ شہر اور اس کے گرد و پیش میں 10 لاکھ کے قریب لوگ رہتے ہیں۔ یہ غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا شہری آبادی کا مرکز ہے جس کی مکمل ناکہ بندی کے لیے اسرائیلی ریاست کی فوج اپنی آخری کوشش کے طور پر تمام تر فوجی قوت استعمال کر رہی ہے۔
غزہ شہر سے اس بمباری کی وجہ سے ساحلی سڑک کے ساتھ ساتھ جانے والے صائب المبیض کا کہنا ہے ہمیں جبری طور پر ہماری زمین سے نکالا جا رہا ہے اور جنوبی غزہ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے اندھا دھند بدترین بمباری کی جا رہی ہے۔ بہت سی عمارتیں تباہ کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بات 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہی۔
حتیٰ کہ وہ مسجدیں بھی بمباری کا بطور خاص نشانہ بنائی جا رہی ہیں جن میں اب بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ ان مسجدوں کو شہید کیا جا رہا ہے اور لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ جو بمباری سے بچ جائیں وہ یہاں سے نکل جائیں۔
کہا جاتا ہے کہ اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تاہم غزہ کی صورتحال کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ دباؤ اسرائیلی ریاست پر نہیں غزہ کی فلسطینی آبادی پر اسرائیل اپنی بمباری سے بڑھاتا جا رہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر بے شمار لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی اور بار بار بے گھر ہونا پڑا اور شاید ہی کوئی ایسا بچا ہو جو ایک بار بھی نقل مکانی سے بچا ہو۔
ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنے ٹریکٹر، چھکڑوں اور جو بھی انہیں پہیوں والی چیز میسر ہے اس پر اپنے ساتھ بچا کچھا سامان یا ضرورت کی چارپائی اور بچا کچھا فرنیچر لے جا رہے ہیں۔ لیکن بہت سارے ایسے ہیں جو مجبور ہیں کہ بھاری چھکڑوں کو اپنے ہاتھوں سے کھینچیں اور اپنی زندگی کے سفر کو منہ زور بمباری سے کھینچ کر قدرے محفوظ جگہ کی طرف لے کر جائیں۔
مبیض نے کہا اب انہیں چاہیے کہ زندگی کو واپس آنے کی اجازت دے دیں کہ بہت تباہی ہوگئی۔
تاہم اسرائیلی ریاست کی فوج فلسطینیوں کو جبری انخلاء کے حوالے سے کہہ رہی ہے کہ وہ المواصی کے پناہ گزین کیمپ کی طرف جائیں جسے اسرائیلی فوج نے انسانی بنیادوں پر 'ہیومینیٹیرین زون' قرار دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہاں زخمیوں اور بیماروں کو طبی امداد بھی مستقبل میں فراہم کی جائے گی۔
اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے ایک علاقے کو محفوظ زون قرار دیا لیکن بعد ازاں اس پر بار بار بمباری کی اور ہزاروں فلسطینیوں کو ہلاک کیا مگر اس کا اس کے بعد کہنا یہی رہا کہ وہ حماس کو نشانہ بنا رہی ہے۔
غزہ کے ان فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ جنوب کی طرف یہ سفر بہت مہنگا ہے اور وہاں پر ٹینٹ لگانے کے لیے جگہ بھی اب کم ہوتی جا رہی ہے جن کو محفوظ زون کہا گیا ہے۔
غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود باسل نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے منگل کے روز کہا کہ جنوبی غزہ ہو یا وسطی غزہ کسی بھی علاقے میں زندگی کی بنیادی ضرورتیں موجود نہیں ہیں۔ کوئی چھت نہیں، کوئی خیمہ نہیں، کوئی کھانے کی چیز نہیں حتیٰ کہ پینے کا پانی بھی نہیں ہے۔
ہر جگہ نسل کشی ہے
غزہ شہر میں منگل کے روز اسرائیلی فوج نے ایسے پمفلٹ جہازوں سے گرائے جن میں فلسطینیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ علاقہ چھوڑ جائیں۔
36 سالہ خالد خویطر نے کہا اسرائیلی ریاست جہاں ہمیں جانے کے لیے کہہ رہی ہے وہاں تحفظ کیسے ہوگا۔ وہ اس سے پہلے بھی غزہ سٹی کے پڑوس میں زیتون کے علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو المواصی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ان کے لیے وہاں کوئی جگہ نہیں، کوئی خیمہ نہیں، کوئی پانی نہیں۔ بس اندھا دھند وہاں دھکیلا جا رہا ہے۔
30 سالہ میرفت ابو معمر بھی اپنے شوہر اور تین بچوں کے ساتھ نقل مکانی کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہیں کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی بنیادی ضرورت کی چیز۔
انہوں نے کہا ہر طرف بمباری سے قتل عام ہو رہا ہے۔ ہمارے پاس بس ہمارے رب کا سہارا ہے کیونکہ دنیا ایک تماش بین کے طور پر ہمیں قتل ہوتا دیکھ رہی ہے۔
میرفت نے کہا جس طرح ہمارا انخلاء ہو رہا ہے یہ ہم فلسطینیوں کی توہین ہے۔
میرفت نے مزید کہا ہم نے دو سال تک انتظار کیا ہے اور دیکھا ہے۔ لیکن ہمیں کوئی بھی لمحہ امن کا ایسا نہیں ملا کہ ہم اپنی نیند کر سکیں۔ صرف قتل عام، تباہی، دکھ اور تکیلف دیکھی ہے۔
غزہ میں جاری اسرائیلی ریاست کی جنگ میں اب تک 64522 فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
-
اسرائیلی ریاست : غزہ کے رہنے والے فلسطینی غزہ سے بھاگ جائیں، نیتن یاہو کی ' آخری' دھمکی !
اسرائیلی ریاست نے غزہ کے جنگ زدہ اور بے گھر کر دیے گئے لاکھوں فلسطینیوں کو الٹی ...
مشرق وسطی -
غزہ کے لیے امدادی بیڑے میں شامل ایک کشتی پرڈرون کا دعویٰ، تونسی حکام کی تردید
تونس کے نیشنل گارڈ کا کہنا ہے کہ آگ کی وجہ کشتی پر موجود ایک لائف جیکٹ میں آگ لگنا ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی فوج کا غزہ کے تمام علاقوں کے رہائشیوں کو مکانات خالی کرنے کا حکم
اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح غزہ شہر کے تمام علاقوں سے رہائشیوں کو انخلا کا حکم دیا ...
مشرق وسطی