ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے اتوار کو فلسطینیوں کے حامی مظاہرین کی تعریف کردی حالانکہ ہسپانوی سائیکل ریس کے راستے میں ان کے مظاہروں کی وجہ سے رکاوٹ پیدان ہونے کے باعث کچھ کھلاڑیوں نے گزشتہ دنوں ریس سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی تھی۔
بڑے مظاہروں کی منصوبہ بندی کے ساتھ آج ایک ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے جب کھلاڑی 21 دن کی ریس کے آخری مرحلے پر پہنچے۔ یہ ریس دارالحکومت میڈرڈ میں ختم ہو رہی تھی۔ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کے خلاف اسرائیلی ٹیم 'اسرائیل- پریمیر ٹیک' کو ہدف بنانے والے احتجاج نے ریس کے کئی مراحل میں خلل ڈالا۔ اس ریس کا اختتام اتوار کی گرینچ کے وقت کے مطابق شام 5 بجے ہونا تھا۔
ملگے شہر میں سوشلسٹ پارٹی کے ایک اجتماع میں سانچیز نے کہا کہ آج ’’ وویلتا ‘‘ (ہسپانوی ریس) کا اختتام ہے۔ ہم کھلاڑیوں کے لیے اپنا احترام اور تعریف کا اظہار کرتے ہیں اور اسی طرح ہسپانوی عوام کی تعریف کرتے ہیں جو فلسطین جیسے جائز مسائل کے بارے میں فکرمند ہیں۔
میڈرڈ میں سینکڑوں مظاہرین نے اتوار کو اسرائیلی جنگ کے خلاف سائیکل ریس کے آخری مرحلے کے راستے میں داخل ہو کر ہسپانوی سائیکل ٹور کو روک دیا اور پولیس نے انہیں آنسو گیس سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ مظاہرین نے ان علاقوں میں لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹا دیا جن میں "گران ویا" سڑک بھی شامل تھی جہاں سائیکل سواروں کو دارالحکومت کے گرد چکر لگاتے ہوئے کئی بار گزرنا تھا۔ اس دوران کچھ مظاہرین نے اسرائیل کے بائیکاٹ کے نعرے بھی لگائے۔ احتجاج کی وجہ سے کھلاڑی اپنی سائیکلوں سے اتر گئے جبکہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو ہٹانے کی کوشش میں آنسو گیس کا استعمال کیا۔
میڈرڈ میں قدامت پسند عوامی پارٹی کی رہنما اسابیل دیاز ایوسو نے کہا کہ سانچیز کے تبصروں نے ہسپانوی کھیلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے پلیٹ فارم ’’ ایکس ‘‘پر مزید کہا کہ جب ریاست کا صدر اپنے ہی دارالحکومت میں ہسپانوی ریس کا بائیکاٹ کرنے کا نعرہ لگاتا ہے تو وہ ہر حادثے کا براہ راست ذمہ دار بن جاتا ہے، یہ طرز عمل ہمارے کھیلوں اور ہمارے ملک کو نقصان پہنچائے گا۔
گزشتہ ہفتے کچھ مظاہرین نے سکیورٹی باڑ کو توڑ کر سڑک کو روکنے کے لیے ایک احتجاجی دھرنا دیا تھا جو میڈرڈ کے قریب آخری مرحلے سے پہلے تھا۔ لیکن کھلاڑیوں نے ان کے ارد گرد سے گزرنے کا راستہ اختیار کیا تھا۔ سپین، جس نے مئی 2024 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا، غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا سب سے بڑا ناقد رہا ہے۔ سانچیز کی حکومت نے اس ماہ کے اوائل میں اسرائیلی فوجی سامان کی فراہمی کے بارے میں نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔