خلیجی ممالک کی مشترکہ دفاعی کونسل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اپنے غیر معمولی اجلاس میں کونسل کے رکن ممالک کے دفاعی حالات اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ یہ موقف بالخصوص اسرائیلی حملے کے پیشِ نظر سامنے آیا ہے۔ اجلاس میں تمام آپریشن مراکز کے فضائی حالات کی تصویر پیش کی گئی اور مشترکہ دفاعی منصوبے اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کے لیے متحدہ عسکری قیادت، آپریشن اور تربیت کمیٹی کے ساتھ ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی خلیجی ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے میں اضافہ کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس نے خلیجی مشترکہ ابتدائی انتباہی نظام برائے بیلسٹک میزائل پر کام کرنے والے مشترکہ ورکنگ گروپ کی رفتار بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ مزید یہ کہ آئندہ تین ماہ میں فضائی اور دفاعی مراکز کے درمیان مشترکہ مشقیں کرنے کی منظوری دی گئی، جس کے بعد عملی فضائی مشق "سیکٹرز" منعقد ہوں گی۔
کونسل کے ارکان نے فیصلہ کیا کہ تمام عسکری اور انٹیلی جنس سطحوں پر مشاورت، تعاون اور ہم آہنگی جاری رکھی جائے گی تاکہ خلیجی دفاعی یکجہتی کو مضبوط کیا جا سکے اور خطرات و چیلنجوں کے مقابلے میں دفاعی نظام کو مربوط کیا جا سکے۔ اس کا مقصد کونسل کے تمام ممالک کی سلامتی، استحکام اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے یا خطرے کا مؤثر جواب دینا ہے۔
خلیجی ممالک کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا کہ کونسل کے قیام سے ہی اصول رہا ہے کہ خلیج کی سلامتی ناقابل تقسیم ہے۔ لہذا قطر کی سلامتی خلیجی دفاعی نظام کا حصہ ہے اور کسی بھی رکن ملک پر حملہ پورے نظام پر حملہ ہے۔ البدیوی نے اسرائیلی فورسز کی جانب سے قطر پر حملے کو غداری اور صریحاً خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا، جس میں رہائشی علاقوں، اسکولوں، کنڈرگارٹن اور سفارتی مشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔
البدیوی نے اس "جارحانہ کارروائی" کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انھوں نے عالمی و علاقائی سطح پر قطر کی حمایت اور یکجہتی کے بیانات کی اہمیت اجاگر کی، جو قطر کی عالمی اہمیت اور اسرائیلی پالیسیوں کے خطرات کو واضح کرتے ہیں۔
اجلاس میں زور دیا گیا کہ خلیجی رہنماؤں نے مشترکہ عسکری عمل کو ہمیشہ بھرپور توجہ اور حمایت دی ہے، تاکہ رکن ممالک کی افواج اپنی ذمہ داری نبھا سکیں اور امن و استحکام برقرار رکھیں۔ خلیجی ممالک نے تاریخی طور پر بحرانوں اور جنگوں کے دوران باہمی تعاون اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا جو ایک ماڈل کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ البدیوی نے یاد دلایا کہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق کسی بھی رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملے کے برابر ہے۔
-
سلامتی کونسل : غزہ کے حوالے سے نئی قرارداد پر رائے شماری آج ہو گی
مسودہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ میں "فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی اندازے کے مطابق غزہ سے 4 لاکھ افراد کی نقل مکانی ... اسپتال "تباہی کے دہانے پر"
یورومیڈیٹرینیئن آبزرویٹری کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں تقریباً 8 لاکھ فلسطینیوں کا ...
بين الاقوامى -
تل ابیب : غزہ جنگ کے سب سے کٹر حامی مذہبی یہودی قانون کے مطابق فوجی خدمات دینے سے انکاری
غزہ میں جنگ کی انتہائی شدت کے باوجود اسرائیل کے مذہبی انتہا پسند اور کٹر یہودیوں ...
مشرق وسطی