اسرائیل نے شام میں قنیطرہ کے دیہی علاقے میں گھس کر فوجی چوکی قائم کر لی

اسرائیلی فوجی راہ گیروں کی باریک بینی سے تلاشی لیتے رہے … تاہم کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

آج ہفتے کی صبح اسرائیلی فوج کی ایک گشتی ٹیم نے جنوبی شام کے صوبے قنیطرہ کے علاقے "الصمدانیہ الشرقیہ" میں داخل ہو کر ایک عارضی چوکی قائم کر لی، حالانکہ دمشق نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے مذاکرات ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

شامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوجی گشتی ٹیم نے اچانک گاؤں کے مغربی داخلی راستے پر یہ چوکی نصب کی اور کئی شہری گاڑیوں کو روک کر مسافروں سے ان کے شناختی کارڈ طلب کیے۔ رپورٹ کے مطابق فوجیوں نے راہ گیروں کی باریک بینی سے تلاشی لی لیکن کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔ مزید بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج نے درعا اور قنیطرہ کے کئی علاقوں میں گھس کر کارروائی کی اور بعد میں واپس چلی گئی۔

یاد رہے کہ 8 دسمبر کو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل، شام کے مختلف علاقوں پر وقفے وقفے سے بم باری کر رہا ہے اور خاص طور پر درعا اور قنیطرہ کے دیہی علاقوں میں زمینی دراندازیاں کر رہا ہے۔ شام اسرائیلی فوجی "حملوں" کی مسلسل مذمت کرتا آیا ہے اور عالمی برادری سے ان کی فوری روک تھام کے لیے سخت موقف اپنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967 سے شام کے زیادہ تر حصے پر مشتمل جولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر رکھا ہے، اور بشار الاسد کے زوال کے بعد اس نے شام کے بفر زون پر بھی تسلط قائم کر لیا، جس کے ساتھ ہی 1974 میں طے پانے والا فائر بندی اور افواج کے انخلا کا معاہدہ بے اثر ہو گیا۔

آج کی اس پیش قدمی کے پس منظر میں کل جمعے کو شامی صدر احمد الشرع نے اعلان کیا تھا کہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات ایک معاہدے کے قریب ہیں، جو جلد طے پا سکتا ہے اور 1974 کے معاہدے سے مشابہ ہو گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شام، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ صدر الشرع نے ترک اخبار "ملّت" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا "شام جانتا ہے کہ جنگ کیسے لڑنی ہے لیکن اب وہ جنگ نہیں چاہتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں