فلسطینی وزیر خارجہ فارسین آغا بیکیان شاہین نے کہا ہے کہ کئی اور ریاستوں کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے سے مسئلے کا دو ریاستی حل اور فلسطینیوں کی آزادی قریب آئے گی۔
فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ کا یہ بیان برطانیہ کینیڈا اور آسٹریلیا جیسی انتہائی اہم اسرائیلی اتحادی مملکتوں کی طرف سے اتوار کے روز فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اب یہ ممالک بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ملکوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
تاہم اسرائیل اور امریکہ نے اس موقع پر سخت تنقید کی ہے۔ امریکہ کے صدر جنہیں نوبل انعام کمیٹی ان دنوں امن کے نوبل انعام کے لیے زیر غور بتاتی ہے ان کے زیر قیادت امریکہ نے دورز قبل غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو چھٹی بار ویٹو کر دیا ہے۔
امریکہ پچھلے دو برسوں کے دوران عزہ میں جنگ کے حوالے سے عجیب و غریب کردار ادا کررہا ہے۔ وہ اس جنگ کے لیے اسرائیلی کا سب سے بڑا سفارتی حامی ، سب سے زیادہ ہتھیاروں کی اسرائیل کو سپلائی کرنے والا بھی ہے اور جنگ بندی کے لیے دوحہ مذاکرات میں ایک ثالث بن کر بھی بیٹھتا ہے اور جنگ بندی کی باتیں کرتا ہے مگر سلامتی کونسل میں ہمیشہ جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کر دیتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے نوبل انعام کے لیے استحقاق یا عدم استحقاق کا فیصلہ اگلے ماہ سامنے آئے گا۔
اب امریکہ فلسطینیوں کی الگ ریاست کی بھی اسرائیل کی طرح ہی مخالفت کر رہا ہے۔ جبکہ کئی عرب اور مسلمان ملک اسرائیلی ریاست کے وجود کو تسلیم کرنے کو بھی تیار ہیں۔ بشرطیکہ فلسطینی ریاست کا وجود بھی عمل میں لایا جاتا ہے۔
ادھر فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ نے مزید کہا یہ وقت ہے کہ اب آنے والا ہر دن فلسطینی ریاست کی تعمیر کا دن ہوگا۔ وہ رام اللہ میں رپورٹرز سے گفتگو کر رہے تھے۔
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر اسرائیل نے ان ممالک کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی وزراء نے ایسے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ایسا کرنے سے زمینی حقائق میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ جبکہ بعض وزراء کے مطابق باہمی مذاکرات کے ذریعے ہی دو ریاستی حل کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ فلسظینی ریاست کبھی نہیں بنے گی۔
فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ نے مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا اسرائیل مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے سے متعلقہ تقریب میں اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کا حوالہ دیا۔ ان یہودی بستیوں کی تعمیر کے ذریعے اسرائیل شمال میں رہنے والے فلسطینیوں کا جنوبی حصہ میں رہنے والے فلسطینیوں سے رابطہ ختم کر دینا چاہتی ہے۔
وزیر خارجہ شاہین نے مزید کہا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا علامتی نہیں ہے۔ یہ اقدام عملی و ٹھوس ہے۔