لبنانی پارلیمنٹ کے رکن مروان حمادہ نے جمعرات کو الروشہ علاقے میں حزب اللہ کی ایک تقریب کے دوران پیش آنے والے واقعے پر اپنی رائے دی، جس کے بعد حزب اللہ کے حامی جمعہ کی شام اس کے گھر کے گرد اکٹھا ہونا شروع ہوئے تھے ۔
غصے میں بپھرے ہوئے مظاہرین رات کے اندھیرے میں نعرے لگاتے اور دھماکہ خیز آلات کے ذریعے دھمکی آمیز اور مذمت بھرے پیغام پہنچاتے رہے۔
اسی طرح، حزب اللہ کے حامیوں اور حمایتیوں نے سوشل میڈیا پر حمادہ کے خلاف دھمکیوں اور گالم گلوچ کی مہم بھی چلائی، اور اسے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے خبردار کیا۔
عضو مجلس النواب اللبناني مروان حمادة لـ "الحدث" تعليقا على واقعة "صخرة الروشة": طفح الكيل.. وما جرى "صورة قبيحة" لوضع لبنان#قناة_الحدث pic.twitter.com/QDce3307XZ
— ا لـحـدث (@AlHadath) September 26, 2025
جبکہ حمادہ جو ''ڈیموکریٹک رابطہ'' کے رکن ہیں، انھوں نے اس امر کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ الروشہ کی تقریب یا سید حسن نصراللہ کی یاد میں کسی بھی نامناسب لفظ کا استعمال کرنا چاہتے تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ الحدث چینل پر کی گئی گفتگو میں ان کا تذکرہ '' احتجاجی ریلی '' کا مقصد محض حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے روشنائی کے مسئلے کے سلسلے میں پیدا ہونے والے بحران اور اس سے پیدا ہونے والی کشیدگی کی طرف اشارہ کرنا تھا۔
انہوں نے ہفتے کو ایک مختصر بیان میں تصدیق کی کہ وہ ''لبنان کے تمام شہداء، مزاحمت کے شہداء، اور سید حسن نصراللہ اور ان کے ساتھیوں کے لیے مکمل احترام رکھتے ہیں''.
حزب اللہ نے بیروت میں مشہور روشہ کی چٹان کے سامنے ایک تقریب منعقد کی اور اسے پارٹی کے سابقہ دو سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ اور ہاشم صفی الدین کی تصاویر سے روشن کیا، جنہیں پچھلے سال اسرائیل نے قتل کر دیا تھا۔
یہ سب انھوں نے بیروت کے گورنر کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئےکیا، جنہوں نے تقریب کو اجازت تو دی لیکن چٹان پر کسی بھی تصویر یا پارٹی علامات کو ظاہر کرنے یا روشن کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
جبکہ لبنانی وزیرِاعظم نواف سلام نے اس اقدام کی مذمت کی، جسے متعدد مبصرین نے ریاست کے لیے چیلنج قرار دیا۔
انہوں نے بیان میں واضح کیا کہ وہ وزراء داخلہ، انصاف اور دفاع سے رابطہ کر چکے ہیں اور انہیں مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے،اس میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے تفتیش کے لیے پیش کرنا شامل ہے تاکہ انہیں قانون کے مطابق سزا دی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا ،وہ منتظمین اور ان کے حامیوں کی واضح ذمہ داریوں کے خلاف ہے اور یہ ان کی ایک اور ناکامی ہے جو ریاست اور اس کے اداروں کے ساتھ ان کے تعلقات پر منفی اثر ڈالے گی۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے حسن نصراللہ کو 27 ستمبر 2024 کو بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر کیے گئے پے درپے حملوں میں قتل کر دیا تھا۔
ان کے قتل کے چار دن بعد، ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کا سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا، جسے اسرائیلی طیاروں نے بالکل اسی انداز میں 3 اکتوبر 2024 کو ہلاک کر دیا تھا۔
حزب اللہ نے اپنے بقول، غزہ کے شعبے کی حمایت میں'''حمایتی جنگ'' میں حصہ لیا، وہ اس کے بعد سیاسی اور عسکری طور پر بہت کمزور ہو گیا، کیونکہ اس نے اپنے درجنوں سینئر کمانڈرز کھو دیے اور اس کے سینکڑوں ٹھکانے اور گودام تباہ ہو گئے۔
-
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے لبنانی حمایت جاری رکھیں گے: امریکی ایلچی
امریکہ کے شام کے لیے ایلچی ٹوم براک نے یقین دہانی کرائی کہ امریکہ "لبنان کی ریاست ...
بين الاقوامى -
لبنان : حکومتی پابندی کے باوجود حزب اللہ کے ہزاروں حامی سڑکوں پر
جاں بحق ہونے والے قائدین کی یاد منائی
مشرق وسطی -
حزب اللہ کے چیلنج کے بعد... اراکین پارلیمان کا وزیر اعظم سے اظہار یکجہتی، فوج پُر عزم
ایک لبنانی ذریعے نے "العربیہ" کو بتایا کہ وزیر اعظم نواف سلام اس بات پر مصر ہیں کہ ...
مشرق وسطی